ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 126 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 126

مَر گئے اسی طرح بخاری اور مسلم نے تصدیق کی اور اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ (اٰل عـمران:۵۶) کے معنے اِنِّيْ مُـمِیْتُکَ کیے۔جیسے قرآن شریف سے یہ ثابت ہوتاہے کہ بنی اسماعیل کو اسی طرح شرف عطاہوا جیسے بنی اسرائیل کوبزرگی دی تھی ویسے ہی احادیث سے یہ پایا جاتا ہے۔ان لوگوں پر جو انکار کرتے ہیں افسوس ہے۔ان کو رسم اور عادت نے خراب کردیا ہے ورنہ یہ میرا معاملہ ایسا مشکل اور پچیدہ نہ تھا جو سمجھ میں نہ آتا۔قرآن شریف سے ثابت، احادیث سے ثابت، دلائل عقلیہ سے ثابت اور پھر تائیداتِ سماویہ اس کی مصدق، اور ضرورت زمانہ اس کی مؤیّد۔باوجود اس کے بھی یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ سلسلہ حق پر نہیں۔قرآن و سنّت کی خلاف ورزی غور کرکے دیکھو کہ جب یہ لوگ خلافِ قرآن و سنّت کہتے ہیں کہ حضرت عیسٰیؑ زندہ آسمان پر بیٹھے ہیں تو پادریوں کو نکتہ چینی کا موقع ملتا ہے اور وہ جھٹ پٹ کہہ اُٹھتے ہیں کہ تمہارا پیغمبر مَر گیا اور معاذ اللہ وہ زمینی ہے۔حضرت عیسیٰ زندہ اور آسمانی ہے اور اس کے ساتھ ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تو ہین کرکے کہتے ہیں کہ وہ مُردہ ہے۔سوچ کر بتائو کہ وہ پیغمبر جو افضل الرسل اور خاتم الانبیاء ہے ایسا اعتقاد کرکے اس کی فضلیت اور ختمیت کویہ لوگ بٹّہ نہیں لگاتے؟ ضرور لگاتے ہیں اور خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کا ارتکاب کرتے ہیں۔میں یقین رکھتا ہوں کہ پادریوں سے جس قدر تو ہین ان لوگوں نے اسلام کی کرائی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کومُردہ کہلایا ہے اسی کی سزا میں یہ نکبت اور بد بختی ان کے شاملِ حال ہورہی ہے۔ایک طرف تو منہ سے کہتے ہیں کہ وہ افضل الانبیاء ہے اور دوسری طرف یہ اقرار کر لیتے ہیں کہ ۶۳ سال کے بعد مَرگئے اور مسیح اب تک زندہ ہے اور نہیں مَرا حالانکہ اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكَ عَظِيْمًا (النسآء:۱۱۴) پھر کیا یہ ارشادِ الٰہی غلط ہے؟ نہیں یہ بالکل درست اور صحیح ہے وہ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مُردہ ہیں۔اس سے بڑھ کر کوئی کلمہ توہین کانہیں ہوسکتا۔حقیقت یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسی فضیلت ہے جوکسی نبی میں نہیں ہے۔میں اس کو عزیزرکھتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم