ملفوظات (جلد 4) — Page 122
ملفوظات حضرت مسیح موعود الله جلد چهارم گے وہ کسی ثواب کی امید نہ رکھیں ایسا تو ضرور ہوگا کہ اللہ تعالیٰ سب حجاب دور کر دے گا اور اس معاملہ کو آفتاب کی طرح کھول کر دکھا دے گا مگر اس وقت ماننے والوں کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ پیغمبروں کو ماننے والوں میں ثواب اولون کو سب سے بڑھ کر ملا ہے اور انکشاف کا زمانہ تو ضرور آتا ہے لیکن آخر ان کا نام ناس ہی ہوتا ہے۔ ا اس مقام پر مولانا مولوی سید محمد احسن صاحب امروہی نے عرض کیا کہ مَتی هَذَا الْفَتْحُ کے جواب میں یہی کہا کہ تمہارا ایمان اُس دن فائدہ نہ دے گا ) ۔ فرمایا۔ بے شک اس بات کو سمجھنا سعادت ہے جس نے اوّل زمانہ میں نہیں پایا اُس کی کوئی قابلیت اور خوبی نہیں۔ لیکن جب خدا نے کھول دیا اس وقت تو پتھر اور درخت بھی بولتے ہیں۔ زیادہ قابل قدر وہ شخص ہے جو اول قبول کرتا ہے جیسے حضرت ابو بکر نے قبول کیا آپ نے کوئی معجزہ نہیں مانگا اور آپ کے منہ سے ابھی نہیں سنا تھا کہ ایمان لے آئے ۔ لکھا ہے کہ حضرت ابوبکر اپنی تجارت پر گئے ہوئے تھے اور جب سفر سے واپس آئے تو ابھی مکہ میں نہیں پہنچے تھے کہ راستہ میں کوئی ایک شخص آپ کو ملا اور اس سے مکہ کے حالات پوچھے۔ اُس نے کہا کہ اور تو کوئی تازہ خبر نہیں ۔ سب سے بڑھ کر تازہ خبر یہی ہے کہ تمہارے دوست نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق نے یہ سن کر کہا کہ اگر اُس نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو وہ سچا ہے۔ اب غور سے دیکھو کہ حضرت ابو بکر نے اس وقت کوئی نشان یا معجزہ نہیں مانگا بلکہ سنتے ہی ایمان لے آئے اور دعوی خود آنحضرت کے منہ سے بھی نہیں سنا بلکہ ایک اور شخص کی زبانی سنا ہے اور فوراً تسلیم کر لیا۔ یہ کیسا ز بر دست ایمان ہے روایت بھی آنحضرت کے نام سے سن کر اُس میں جھوٹ کا احتمال نہیں سمجھا۔ اے دیکھو! حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے کوئی نشان نہیں مانگا۔ یہی وجہ تھی کہ آپ کا نام صدیق ہوا۔ سچائی سے بھرا ہوا۔ صرف منہ دیکھ کر ہی پہچان لیا کہ یہ جھوٹا نہیں ہے۔ پس صادقوں کی شناخت اور ان الحکم جلدے نمبر ۲۶ مورخہ ۱۷ جولائی ۱۹۰۳ ء صفحه ۱ تا ۳