ملفوظات (جلد 4) — Page 5
ملفوظات حضرت مسیح موعود ♡ جلد چهارم میں بھی ایک عظمت ہوتی ہے اور خدا کا چھپانا ایسا ہے جیسے کہ جنت کی نسبت فرمایا ہے فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنِ (السجدة: ۱۸ ) ( کہ کوئی جی نہیں جانتا کہ کیسی کیسی قرةُ اعین ان کے لئے پوشیدہ رکھی گئی ہے ) دراصل چھپانے میں بھی ایک قسم کی عزت ہوتی ہے جیسے کھانا لایا جاتا ہے تو اس پر دستر خوان وغیرہ ہوتا ہے تو یہ ایک عزت کی علامت ہوتی ہے مَا اخْفِيَ لَهُمْ بھی دلالت کرتا ہے کہ میں تمہارے لئے کچھ ظاہر کروں گا یعنی کوئی شے ہے کہ اس وقت چھپائی ہوئی ہے۔ میں ہوں کہ جماعت سے درست میں سمجھتا ہوں کہ ہماری جماعت نصائح سے درست جماعت نشانوں سے درست ہوگی نہ ہوگی بلکہ نشانوں سے درست ہوگی ۔ دہریت کی جڑ جب اندر ہوتی ہے تو قاعدہ کی بات ہے کہ اثر نہیں ہوا کرتا خدا کو خدا کے ہی ذریعے سے پہچان سکتے کو خداکے ہیں۔ دنیا میں جس تھے کی معرفت انسان کو حاصل ہو جاتی ہے تو اس کی عظمت بھی اس پر کھل جاتی ہے اس وقت وہ اس سے متاثر ہوتا ہے جیسے دریا میں اپنے آپ کو دیدہ دانستہ نہیں ڈالتا۔ شیر سا منے ہو تو اس کے مقابل نہیں جاتا جس جگہ سانپ کا خطرہ ہو وہاں نہیں گھستا اور ایک مقام پر بجلی پڑتی ہو تو وہاں سے بھاگتا ہے ایک طرف تو یہ لوگ دعوئی امت کا کرتے ہیں دوسری طرف کر توت ایسے ہیں ( کہ خدا پناہ دے ) تو اس کے کیا معنی ہوئے؟ ایک الہام ایک میرا گذشتہ ایام کا الہام ہے یہاں ذکر کرنا یاد نہ رہا وہ یہ ہے ۔ إِنِّي أَنَا الصَّاعِقَةُ مولانا مولوی عبد الکریم صاحب نے فرمایا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا نیا اسم ہے آج تک کبھی نہیں سنا حضرت اقدس نے فرمایا بے شک اسی طرح طاعون کی نسبت جو الہامات ہیں وہ بھی ہیں جیسے افطِرُ وَاصُومُ یہ بھی کیسے لطیف الفاظ ہیں گو یا خدا فرماتا ہے کہ طاعون کے متعلق میرے دو کام ہوں گے کچھ حصہ چپ رہوں گا یعنی روزہ رکھوں گا اور کچھ افطار کروں گا اور یہی واقعہ ہم چند سال سے دیکھتے ہیں شدت