ملفوظات (جلد 4) — Page 121
ہوںکہ لوگوں کو معلوم نہیں کہ نشانوں کی فلاسفی کیاہے؟ یہ یادرکھنا چاہیے جیسامیں نے ابھی کہا ہے خدا تعالیٰ کبھی قیامت کا نظارہ یہاں قائم نہیں کرتا اور وہ غلطی کرتے ہیں جو ایسے نشان دیکھنے چاہتے ہیں یہ محرومی کے لچھن ہوتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر بعض لوگوں نے اعتراض کیا کہ آپ آسمان پر چڑھ جائیں اور کتاب لے آئیں تو آپ نے یہی جواب دیا قُلْ هَلْ كُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا(بنیٓ اسـرآءیل:۹۴) پو رے انکشاف کے بعد ایمان لا کر کسی ثواب کی اُمید رکھنا غلطی ہے۔اگر کوئی مٹھی کھول دی جاوے اور پھر کوئی بتاوے کہ اس میں فلاں چیز ہے تو اس کی کوئی قدر نہ ہو گی۔پس پہلے تقویٰ سے تو کام لو اور قرائن کو دیکھو کہ ثواب اسی میں ہے جب ساری باتیں کھل گئیں تو پھر کیا؟ جو اس انتظار میں رہے کہ یہ دیکھوں اور وہ دیکھوں وہ ہمیشہ ایمان اور ثواب کے دائرہ سے خارج رہے ہیں۔دیکھو! اللہ تعالیٰ نے بعض کا نام سابق، مہاجر اور انصار رکھا ہے اور ان کو رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ (التوبۃ:۱۰۰) میں داخل کیا ہے یہ وہ لوگ تھے جو سب سے پہلے ایمان لائے اور جو بعد میں ایمان لائے ان کا نام صرف ناس رکھا ہے جیسا فرما یا اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ۔وَ رَاَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًا (النّصـر:۲،۳) یہ لوگ جو اسلام میں داخل ہوئے اگرچہ وہ مسلمان تھے مگر ان کو مراتب نہیں ملے جو پہلے لوگوں کو دئیے گئے۔اور پھر مہاجرین کی عزّت سب سے زیادہ تھی کیونکہ وہ لوگ اس وقت ایمان لائے جب ان کو کچھ معلوم نہ تھا کہ کامیابی ہو گی یا نہیں بلکہ ہر طرف سے مصائب اور مشکلات کا ایک طوفان آیا ہوا تھا اور کفر کا ایک دریا بہتا تھا۔خاص مکہ میں مخالفت کی آگ بھڑک رہی تھی اور مسلمان ہونے والوں کو سخت اذیتیں اور تکلیفیں دی جاتی تھیں مگر انہوں نے ایسے وقت میں قبول کیا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی بڑی بڑی تعریفیں کیں اور بڑے بڑے انعامات اور فضلوں کا وارث ان کو بنایا۔پس ہر ایک کو یاد رکھنا چاہیے کہ جو اس بات کا انتظار کرتا ہے کہ فلاں وقت آئے گا اور انکشاف ہوگا تو مان لیں