ملفوظات (جلد 4) — Page 111
سے اللہ تعالیٰ کی خشیت میں ترقی نہیں ہوتی تو یاد رکھو کہ وہ علم ترقی معرفت کا ذریعہ نہیں ہے۔۱ ایمان کے لئے مناسبت شرط ہے قرآن شریف سے صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ جب تک انسان کی فطرت میں سعادت اور ایک مناسبت نہ ہو ایمان پیدا نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ کے مامور اور مُر سل اگرچہ کھلے کھلے نشان لے کر آتے ہیں مگر اس میں بھی کوئی شُبہ نہیں کہ ان نشانوں میں ابتلا اور خِفا کے پہلو بھی ضرور ہوتے ہیں۔سعید جو باریک بین اور دور بین نگاہ رکھتے ہیں اپنی سعادت اور مناسبتِ فطرت سے ان اُمور کو جو دوسروں کی نگاہ میں مخفی ہوتے ہیں دیکھ لیتے ہیں اور ایمان لے آتے ہیں لیکن جو سطحی خیال کے لوگ ہوتے ہیں اور جن کی فطرت کو سعادت اور رُشد سے کوئی مناسبت اورحصّہ نہیں ہوتا وہ انکار کرتے ہیں اور تکذیب پر آمادہ ہو جاتے ہیں جس کا بُرا نتیجہ ان کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔دیکھو! مکہ معظمہ میں جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ظہور ہوا تو ابو جہل بھی مکّہ ہی میں تھا اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بھی مکّہ ہی کے تھے لیکن ابو بکر ؓ کی فطرت کو سچائی کے قبول کرنے کے ساتھ کچھ ایسی مناسبت تھی کہ ابھی آپ شہر میں بھی داخل نہیں ہوئے تھے راستہ ہی میں جب ایک شخص سے پوچھا کہ کوئی نئی خبرسنائو اور اُس نے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو اسی جگہ ایمان لے آئے اور کوئی معجزہ اور نشان نہیں مانگا اگرچہ بعد میں بے انتہا معجزات آپ نے دیکھے اور خود ایک آیت ٹھہرے۔لیکن ابو جہل نے باوجود یکہ ہزاروں ہزار نشان دیکھے لاکن وہ مخالفت اور انکار سے باز نہ آیا اور تکذیب ہی کرتا رہا۔اِس میں کیا سِرّ تھا۔پیدائش دونوں کی ایک ہی جگہ کی تھی ایک صدیق ٹھہرتا ہے اور دوسرا جوابو الحکم کہلاتا تھا وہ ابو جہل بنتا ہے۔اس میں یہی راز تھا کہ اس کی فطرت کو سچائی کے ساتھ کوئی مناسبت ہی نہ تھی غرض ایمانی امور مناسبت پر ہی منحصرہیں۔جب مناسبت ہوتی ہے تو وہ خود معلّم بن جاتی ہے اور امورِحقّہ کی تعلیم دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اہلِ مناسبت کا وجود بھی ایک نشان ہوتا ہے۔۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۲۱ مورخہ ۱۰؍ جون ۱۹۰۳ء صفحہ ۱، ۲