ملفوظات (جلد 4) — Page 102
کیسے شرمندہ ہوتے ہیں۔آریوں کو کیسے شرمندہ ہونا پڑتا ہے۔کیا کوئی عیسائی فخر کے ساتھ کہہ سکتا ہے کہ ہمار ے خداوند کی تین دادیاں نانیاں بدکار تھیں۔الغرض انسان یا حسن کا گرویدہ ہوتا ہے یا احسان کا اور کامل طور پر یہ اسلام نے اﷲ تعالیٰ کی نسبت بیان کئے ہیں۔سورۃ فاتحہ میں پہلے حسن و احسان ہی کو دکھایا ہے اور اگر ان سے انسان اس کی طرف رجوع نہیں کرتا تو پھر تیسری صورت غضب کی بھی ہے۔اس لئےغَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ(الفاتحۃ: ۷) کہہ کر ڈرایا ہے لیکن مبارک وہی شخص ہے جو اس کے حسن اور احسان سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اس کے احکام کی پیروی کرتا ہے۔اس سے خد اقریب ہوجاتا ہے اور دعائوں کو سنتا ہے۔عقل روح کی صفائی سے پیدا ہوتی ہے یاد رکھو کہ عقل روح کی صفائی سے پیدا ہوتی ہے۔جس جس قدر انسان روح کی صفائی کرتا ہے اسی اسی قدر عقل میں تیزی پیدا ہوتی ہے اور فرشتہ سامنے کھڑا ہو کر اس کی مدد کرتا ہے مگر فاسقانہ زندگی والے کے دماغ میں روشنی نہیں آسکتی۔تقویٰ اختیار کرو تقویٰ اختیار کرو کہ خدا تمہارے ساتھ ہو۔صادق کے ساتھ رہو کہ تقویٰ کی حقیقت تم پر کھلے اور تمہیں توفیق ملے۔یہی ہمارا منشا ہے اور اسی کو ہم دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہیں۔۱ ۱۶؍جنوری ۱۹۰۳ء (دوران سفر جہلم بمقام لاہور) آپؑپا پیادہ سٹیشن کو روانہ ہوئے۔راستہ میں مولوی محمد احسن صاحب امروہی کے استفسار پر فرمایا کہ رات کو کثرت سے بار بار یہ الہام ہوا ہے اُرِیْکَ بَرَکَاتٍ مِّنْ کُلِّ طَرْفٍ یعنی میں ہر ایک جانب سے تجھے اپنی برکتیں دکھائوں گا۔۲ ۱ الحکم جلد ۷ نمبر ۱۲ مورخہ ۳۱؍ مارچ ۱۹۰۳ء صفحہ ۱ تا ۳ ۲ البدر جلد ۲ نمبر ۱، ۲ مورخہ ۲۳، ۳۰ ؍ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۹