ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 101 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 101

پھر دوسری کشش احسان کی ہے۔عیسائیوں نے خدا کے احسان کا کیا نمونہ دکھایا یہی کہ اپنے بچہ کو پھانسی دے دیا۔مولوی صاحب (مولوی نورالدین صاحب) ذکر کیا کرتے ہیں کہ ایک باپ اپنے بیٹے کو کہہ رہا تھا کہ خدا نے اس جہان کو کیسا پیار کیا کہ اپنا بیٹا پھانسی دے دیا۔لڑکا یہ سن کر ڈر گیا اور بھاگ گیا اور جب اس سے بھاگنے کی وجہ پوچھی گئی تو اس نے یہی کہا کہ جب خدا نے یہ حرکت کی تو تجھ سے کیا امید ہوسکتی ہے۔انسان خدا سے محبت کرتا ہے تو پھر اس کو سب سے مقدم کر لیتا ہے۔ہزاروں بھیڑیں بکریاں موجود ہیں۔اگر محبت کا یہی نشان ہے اور مارنے والے عزیز ہوتے ہیں تو کیا یہ چیزیں خد اکو انسان سے عزیز ترین ہوتی ہیں؟ مگر ایسا نہیں۔لاکھوں چیزیں انسان کے لئے وہ ہلاک کرتا ہے۔پانی میں کیڑے رکھے ہوئے ہوتے ہیں۔یہ بھی خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کیونکہ بسیط چیزیں ہلاک کر دیتی ہیں۔غرض یہ اصل صحیح نہیں ہے جو سمجھ لیا جاتا ہے کہ وہ جس چیز سے پیار کرتا ہے اس کو ہلاک کرتا ہے۔سچا خدا جس سے پیار کرتا ہے اس کی تائید کرتا ہے کیونکہ وہ خدا فرماتا ہےكَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ (المجادلۃ:۲۲) عیسائی اپنے خدا کی نسبت ایسا نمونہ پیش نہیں کرتے اور حقیقت میں نہیں ہے۔کیونکہ مسیح کا اپنا نمونہ یہ ہے کہ دشمنوں کے ہاتھوں سے سخت ذلیل ہوئے اور اس وقت وہ خود اگر خدا تھے یا خدا کے بیٹے تھے تو دشمنوں کو خطرناک ذلّت پہنچنی چاہیے تھی مگر بظاہر دشمن کامیاب ہو گئے اور انہوں نے پکڑ کر صلیب پر چڑھا ہی دیا۔لیکن ہمارا خدا ایسا نہیں ہے اس نے اپنے رسولوں کی ہرمیدان میں نصرت کی اور کامیاب کیا۔اب دوسرے مذہب اس کا نمونہ کہاں سے لائیں۔یہ یاد رکھو کہ ہمارا خدا کسی کو پھانسی دینا نہیں چاہتا جس قدر کام کریں گے اس میں عزّت پائیں گے۔اس نے ہمارے قویٰ کو بے کار نہیں رکھا۔بقول سعدی ؎ حقا کہ با عقوبت دوزخ برابر است رفتن بپائے مَردی ہمسایہ در بہشت خدا نے چاہا ہے کہ تم زنانہ سیرت نہ بنو بلکہ مَرد بنو۔اب کیسی بات ہے۔کیسے احسان کئے ہیں کہ ہم پر حقائق و معارف کے خزانے کھولے ہیں۔کسی کے سامنے ہمیں اس نے شرمندہ نہیں کیا۔عیسائی