ملفوظات (جلد 4) — Page 100
سن کر سارے شبہات دور ہو جاتے اور خواہ نخواہ ماننا پڑتا بلکہ اور بھی خدائی کا ثبوت ملتا۔اگر پیٹ ہی میں معجزے دکھانے شروع کر دیتے تو اور بھی معاملہ صاف ہو جاتااور خواہ نخواہ ماننا پڑتا۔مگر بجائے اس کے کہ اس کی الوہیت کی کوئی عظمت ثابت ہوتی ہر پہلو سے اس کا نقص اور کمزوری ہی ثابت ہوتی ہے۔مریم کے نکاح سے تین قَسمیں توڑی گئیں مریم کا نکاح حمل میں کیا گیا جو شرعاً جائز نہ تھا اور ایک نکاح سے تین قسمیں توڑی گئیں۔یعنی ماں نے عہد کیا تھا کہ نکاح نہ کروں گی اور خود مریم نے بھی عہد کیا ہوا تھا۔اور ان ساری باتوں کے علاوہ ایک اور اعتراض ہے جس کا جواب عیسائی نہیں دے سکتے۔عیسائی مذہب میں دوسری شادی منع ہے لیکن یوسف کی پہلی بیوی تھی اَور بھی اس قسم کے اعتراض ہیں۔یہودیوں کی کتابوں کو پڑھو وہ کیا حقیقت بیان کرتے ہیں اور ہم کو تو ایسے اعتراض کرتے ہوئے بھی افسوس اور حیا مانع ہوتے ہیں۔پادری عمادالدین نے اپنی کتابوں میں راحاب، تمر اور بنتِ سبع کی بابت لکھا ہے کہ وہ اچھے چال چلن کی عورتیں نہ تھیں۔وہ لکھتا ہے کہ خدا وند نے یہ کیا کیا کہ ایسے خاندان میں جنم لیا۔پھر خود ہی جواب دیتا ہے کہ وہ ایسا کریم ہے کہ ایسے لوگوں میں بھی جنم لینے سے دریغ نہیں کیا۔مگر ایک دانشمند غور کرے کہ یہ کیسی وسعت اخلاق ہے۔اسلام کا پیش کردہ خدا لیکن ہمارا خدا لَمْ يَلِدْ ہے اور کس قدر خوشی اور شکر کا مقام ہے کہ جس خدا کو ہم نے مانا اور اسلام نے پیش کیا ہے وہ ہر طرح کامل اور قدوس ہے اور کوئی نقص اس میں نہیں۔دو خوبیاں کامل طور پر اﷲ تعالیٰ میں پائی جاتی ہیں اور ساری صفات ان کو بیان کرتی ہیں۔چنانچہ اوّل یہ کہ اس میں ذاتی حسن ہے اور اس کے متعلق لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ(الشّورٰی: ۱۲)فرمایا۔قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ(الاخلاص: ۲) فرمایا اور کہا کہ وہ الصَّمَدُ ہے، بےنیاز ہے، نہ وہ کسی کا بیٹا ہے نہ اس کاکوئی بیٹا ہے۔نہ کوئی اس کا ہمتا اور ہمسر ہے۔قرآن شریف کو غور سے پڑھو تو معلوم ہوگا کہ جا بجا اس کا حسن دکھایا گیا ہے۔