ملفوظات (جلد 4)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 96 of 438

ملفوظات (جلد 4) — Page 96

یا کسی دوسرے کی شرارت اور غلط بیانی کی وجہ سے دھوکا میں پڑجاتا ہے۔اس لئے خود خالی الذہن ہو کر تحقیق کرنی چاہیے۔قرآنی قَسموں کا فلسفہ مثلاً میں نے دیکھا ہے کہ آریہ اور عیسائی اعتراض کر دیتے ہیں کہ قرآن شریف میں قسمیں کیوں کھائی ہیں؟ اور پھر اپنی طرف سے حاشیہ چڑھا کر اس کو عجیب عجیب اعتراضوں کے پیرایہ میں پیش کرتے ہیں۔حالانکہ اگر ذرا بھی نیک نیتی اور فہم سے کام لیا جاوے تو ایسا اعتراض بیہودہ اور بے سود معلوم دیتا ہے کیونکہ قسموں کے متعلق دیکھنا یہ ضروری ہوتا ہے کہ قسم کھانے کا اصل مفہوم اور مقصد کیا ہوتا ہے؟ جب اس کی فلاسفی پر غور کر لیاجاوے تو پھر یہ خود بخود سوال حل ہو جاتا ہے اور زیادہ رنج اٹھانے کی نوبت ہی نہیں آتی۔عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ قسم کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ قسم بطور قائم مقام گواہ کے ہوتی ہے اور یہ مسلّم بات ہے کہ عدالت جب گواہ پر فیصلہ کرتی ہے تو کیا اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ جھوٹ پر فیصلہ کرتی ہے یا قسم کھانے والے کی قسم کو ایک شاہد صادق تصور کرتی ہے؟ یہ روز مرہ کی بات ہے۔جہالت اور تعصب سے اعتراض کرنا اَور بات ہے لیکن حقیقت کو مد نظر رکھ کر کوئی بات کہنا اَور۔اب جب کہ یہ عام طریق ہے کہ قسم بطور گواہ کے ہوتی ہے۔پھر یہ کیسی سیدھی بات ہے کہ اسی اصول پر قرآن شریف کی قسموں کو دیکھ لیا جاوے کہ وہاں اس سے کیا مطلب ہے۔اﷲ تعالیٰ نے جہاں کوئی قسم کھائی ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ نظری امور کے اثبات کے لئے بدیہی کو گواہ ٹھہراتا ہے۔جیسے فرمایاوَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِ۔وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِ۔اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌ (الطّارق: ۱۲ تا ۱۴) اب یہ بھی ایک قسم کا محل ہے۔نادان قرآن شریف کے حقائق سے ناواقف اور نابلد اپنی جہالت سے یہ اعتراض کر دیتا ہے کہ دیکھو زمین کی یا آسمان کی قسم کھائی ہے لیکن اس کو نہیں معلوم کہ اس قسم کے نیچے کیسے کیسے معارف موجود ہیں۔اصل یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ وحی الٰہی کے دلائل اور قرآن شریف کی حقانیت کی شہادت پیش کرنی