ملفوظات (جلد 4) — Page 92
بادشاہ جانتا ہے کہ اس کو دراصل بیل دینا مفید ہوگا اور وہ حکم دیدے کہ اس کو ایک بیل دے دو وہ زمیندار اپنی بیوقوفی سے یہ کہہ دے کہ میری درخواست منظور نہیں ہوئی تو یہ اس کی حماقت اور نادانی ہے لیکن اگر وہ غور کرے تو اس کے لئے یہی بہتر تھا۔اس طرح پر اگر ایک بچہ آگ کے سرخ انگارے کو دیکھ کر ماں سے مانگے تو کیا مہربان اور شفیق ماں یہ پسند کرے گی کہ اس کو آگ کے انگارے دیدے؟ غرض بعض اوقات دعا کی قبولیت کے متعلق ایسے امور بھی پیش آتے ہیں۔جو لوگ بے صبری اور بدظنی سے کام لیتے ہیں وہ اپنی دعا کو رد کرالیتے ہیں۔اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس کی قبولیت کے زمانہ میں اور بھی درازی ہو جاتی ہے۔بنی اسرائیل اسی وجہ سے چالیس برس تک ارض مقدس میں داخل ہونے سے محروم ہو گئے کہ ذرا ذرا سی بات پر شوخیوں سے کام لیتے تھے۔میں کہتا ہوں کہ جس طرح بنی اسرائیل سے غلامی کے دنوں میں وعدے کئے گئے تھے۔اسی طرح پر اس امت کے لئے بھی ایک مماثلت ہے۔ان پر بھی ایک غلامی کا زمانہ آنے والا تھا اور اب وہی حالت غلامی کی ہے کیونکہ ہر پہلو اور ہر رنگ میں مسلمانوں کی حالت تنزل میں ہے اسی مماثلت کے لحاظ سے اﷲ تعالیٰ نے مسیح موعود کی تبلیغ کا زمانہ چالیس سال تک رکھا ہے۔جس طرح پر موسیٰ علیہ السلام نے وہ زمین نہ پائی بلکہ یشوع بن نون لے گیا اسی طرح پر قبولیت کی ارض مقدس ان مولویوں کے نصیب معلوم نہیں ہوتی جو آئے دن مخالفت اور شرارت میں بڑھتے جاتے ہیں اور نہیں سوچتے کہ ان کو کیا کہا گیا تھا۔کیا تعلیم ملی تھی اور اب انہوں نے اس پر کس حد تک عمل کیا ہے۔قرآن شریف کے نصوص پر میرے دعویٰ کو پرکھیں مجھے بڑی ہی حیرت اور بڑا ہی تعجب ہوتا ہے کہ یہ لوگ مسلمان کہلاتے ہیں۔یہ قرآن شریف کو پڑھتے ہیں۔یہ احادیث کے درس دیتے اور مسلمانوں کے لیڈر اور سرگروہ بنتے ہیں۔دین کے اصول سمجھنے اور ان پر عمل کرنے کے مدعی ہیں مگر میرے معاملہ میں ان ساری باتوں کو چھوڑ دیتے ہیں اور کچھ پروا نہیں کرتے کہ قرآن شریف کے نصوص کی بنا پر