ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 83 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 83

دعوت زمین کے کناروں تک پہنچائوں گا۔پھر ہم کسی کی تحقیر یا گالی گلوچ پر کیوں مضطرب ہوں۔۱ ۳۰ ؍ مئی ۱۹۰۲ء مامورین کی تمجید اور مدح وثنا کی حقیقت ۳۰ ؍ مئی ۱۹۰۲ء کی شام کو مختلف باتوں کے تذکرہ میں یہ ذکر شروع ہوا کہ لوگ جناب کے اس فقرہ پر کہ میں مسیح اور حسین سے بڑھ کر ہوں بہت جھلا رہے ہیں۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا۔دنیا میں دو قسم کے لوگ ہوتے ہیں۔ایک تو وہ جو خواہ مخواہ بلا کسی قسم کے استحقاق کے اپنے تئیں محامد، مناقب اور صفاتِ محمودہ سے موصوف کرنا چاہتے ہیں۔گویا وہ یہ چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی کبریائی کی چادر آپ اوڑھ لیں۔ایسے لوگ لعنتی ہوتے ہیں۔دوسری قسم کے وہ لوگ ہوتے ہیں جو طبعاً ہرقسم کی مدح و ثنا اور منقبت سے نفرت اور کراہت کرتے ہیں۔اور اگر وہ اپنے اختیار پر چھوڑ دیئے جاویں تو دل سے پسند کرتے ہیں کہ گوشہءِ گمنامی میں زندگی گذار دیں۔مگر خدا تعالیٰ اپنے مصالح اور باریک حکمتوں کی بِنا پر اُن کی تعریف اور تمجید کرتا ہے اور درحقیقت ہونا بھی اسی طرح چاہیے کیونکہ جن لوگوں کو وہ مامور کر کے بھیجتا ہے اُن کی ماموریت سے اس کامنشا یہ ہوتا ہے کہ اس کی حمدوثنا اور جلال دنیا میں ظاہر ہو۔اگر ان ماموروں کی نسبت وہ یہ کہے کہ فلاں مامور جسے میں نے مبعوث کیا ہے ایسا نکمّا، بُزدل، نالائق، کمینہ، سفلہ اور ہر قسم کے فضائل سے عاری اور بیگانہ ہے تو کیا خدا تعالیٰ کی اس کے ذریعہ سے کوئی صفت قائم ہوسکے گی۔حقیقت میں خدا کا ان کی تمجید اور مدارج اور فضائل بیان کرنا اپنے ہی جلال اور عظمت کی تمہید کے لیے ہوتا ہے۔وہ تو اپنے نفس سے بالکل خالی ہوتے ہیں اور ہر قسم کے مدح و ذَم سے بے پروا ہوتے ہیں چنانچہ سالہا سال اس سے پہلے جبکہ نہ کوئی مقابلہ تھا نہ گرد و پیش میں کوئی مجمع تھا، نہ یہ مجلس اور اس کی کوئی تمہید تھی اور نہ دنیا میں کوئی شہرت تھی۔خدا تعالیٰ نے براہین احمدیہ میں میری نسبت یہ