ملفوظات (جلد 3) — Page 82
تمہارا کام اب یہ ہونا چاہیے کہ دعائوں اور استغفار اور عبادتِ الٰہی اور تزکیہ وتصفیہ نفس میں مشغول ہو جائو۔اس طرح اپنے تئیں مستحق بنائو خدا تعالیٰ کی ان عنایات اور توجہات کا جن کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔اگر چہ خدا تعالیٰ کے میرے ساتھ بڑے بڑے وعدے اور پیشگوئیاں ہیں جن کی نسبت یقین ہے کہ وہ پوری ہوں گی مگر تم خواہ نخواہ اُن پر مغرور نہ ہو جائو۔ہر قسم کے حسد، کینہ، بغض، غیبت اور کبر اور رعونت اور فسق وفجور کی ظاہری اور باطنی راہوں اور کسل اور غفلت سے بچو اور خوب یاد رکھو کہ انجام کار ہمیشہ متقیوں کا ہوتا ہے۔جیسے اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے وَ الْاٰخِرَةُ عِنْدَ رَبِّكَ لِلْمُتَّقِيْنَ(الزّخرف: ۳۶ ) اس لیے متقی بننے کی فکر کرو۔سلسلہ احمدیہ کی عزّت و عظمت حضرت مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے ذکر کیا کہ حضور کی بیماری کی شدّت میں میرے دل میں بہت رقّت پیدا ہوئی تو میں نے بہت دعا کی اور اس طرح پر دعا کی کہ مولا کریم اسلام کی عزّت، قرآن کی عزّت، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزّت اور بالآخر تیری اپنی عزّت اور جلال کے اظہار کا بھی اس وقت یہی ذریعہ ہے تو اس پر فرمایا۔بیماری کی شدّت میں جبکہ یہ گمان ہوتا تھا کہ روح پر واز کر جائے گی مجھے بھی الہام ہوا اَللّٰھُمَّ اِنْ اَھْلَکْتَ ھٰذِہِ الْعِصَابَۃَ فَلَنْ تُعْبَدَ فِی الْاَرْضِ اَبَدًا۔یعنی اے خدا اگر تو نے اس جماعت کو ہلاک کر دیا تو پھر اس کے بعد اس زمین میں تیری پرستش کبھی نہ ہوگی۔فرمایا۔یقیناً یاد رکھو یہ سلسلہ اس وقت اﷲ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے۔اگر یہ سلسلہ قائم نہ ہوتا تو دنیا میں نصرانیت پھیل جاتی اور خدائے وحدہٗ لا شریک کی توحید قائم نہ رہتی یا یہ مسلمان ہوتے جو اپنے ناپاک اور جھوٹے عقیدوں کے ساتھ نصرانیت کو مدد دیتے ہیں اور اُن کے معبود اور خدا بنائے ہوئے مسیح کے لیے میدان خالی کرتے ہیں۔یہ سلسلہ اب کسی ہاتھ اور طاقت سے نابود نہ ہوگا۔یہ ضرور بڑھے گا اور پھولے گا اور خدا کی بڑی بڑی برکتیں اور فضل اس پر ہوں گے۔جب ہمیں خدا کے زندہ اور مبارک وعدہ ہر روز ملتے ہیں اور وہ تسلّی دیتا ہے کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اور تمہاری