ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 81

مقابلہ اور مجادلہ نہ کریں۔اگر کہیں کسی کو کوئی درشت اور نا ملائم بات سننے کا اتفاق ہو تو اعراض کرے۔میں بڑے و ثوق اور سچے ایمان سے کہتا ہوں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ہماری تائید میں آسمان پر خاص تیاری ہو رہی ہے۔ہماری طرف سے ہر پہلو کے لحاظ سے لوگوں پر حجّت پوری ہو چکی ہے۔اس لیے اب خدا تعالیٰ نے اپنی طرف سے اس کارروائی کے کرنے کا ارادہ فرمایا ہے جو وہ اپنی سنّتِ قدیم کے موافق اتمامِ حجّت کے بعد کیا کرتا ہے۔مجھے خوف ہے کہ اگر ہماری جماعت کے لوگ بدزبانیوں اور فضول بحثوں سے باز نہ آئیں گے تو ایسا نہ ہو کہ آسمانی کارروائی میں کوئی تاخیر اور روک پیدا ہو جاوے کیونکہ اﷲ تعالیٰ کی عادت ہے کہ ہمیشہ اس کا عتاب ان لوگوں پر ہوتا ہے جن پر اس کے فضل اور عطایات بے شمار ہوں اور جنہیں وہ اپنے نشانات دکھا چکا ہوتا ہے۔وہ ان لوگوں کی طرف کبھی متوجہ نہیں ہوتا کہ انہیں عتاب یا خطاب یا ملامت کرے جن کے خلاف اس کا آخری فیصلہ نافذ ہونا ہوتا ہے چنانچہ ایک طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے فَاصْبِرْكَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْ(الاحقاف : ۳۶) اور فرماتا ہے وَ لَا تَكُنْ كَصَاحِبِ الْحُوْتِ (القلم : ۴۹) اور فَاِنِ اسْتَطَعْتَ اَنْ تَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْاَرْضِ الاٰیۃ(الانعام : ۳۶) یہ حجّت آمیز عتاب ا س بات پر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بہت جلد فیصلہ کفار کے حق میں چاہتے تھے مگر خدا تعالیٰ اپنے مصالح اور سنن کے لحاظ سے بڑے توقّف اور حلم کے ساتھ کام کرتا ہے لیکن آخر کار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کو ایسا کچلا اور پیسا کہ اُن کا نام و نشان مٹا دیا۔اسی طرح پر ممکن ہے کہ ہماری جماعت کے بعض لوگ طرح طرح کی گالیاں، افترا پردازیاں اور بدزبانیاں خدا تعالیٰ کے سچے سلسلے کی نسبت سن کر اضطراب اور استعجال میں پڑیں۔مگر انہیں خدا تعالیٰ کی اس سنّت کو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ برتی گئی ہمیشہ ملحوظ خاطر رکھنا چاہیے۔اس لیے میں پھر اور بار بار بتاکید حکم کرتا ہوں کہ جنگ وجدال کے مجمعوں، تحریکوں اور تقریبوں سے کنارہ کشی کرو۔اس لیے کہ جو کام تم کرنا چاہتے ہو یعنی دشمنوں پر حجّت پوری کرنا وہ اب خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔