ملفوظات (جلد 3) — Page 76
خطرہ ہو تو ایسے مقام کو ترک کرو اور اپنے کسی نیک کام میں مصروف ہو جا ئو۔۱ ۲۷ ؍ اپریل ۱۹۰۲ء موجودہ عیسائیت درحقیقت پولوسی مذہب ہے فرمایا۔جیسا کہ یہودی فاضل نے اپنی کتاب میں لکھا ہے یہ بات صحیح ہے کہ موجودہ مذہب نصاریٰ جس میں شریعت کا کوئی پاس نہیں اور سؤر کھانا اور غیر مختون رہنا وغیرہ تمام باتیں شریعتِ موسوی کے مخالف ہیں۔یہ باتیں اصل میں پولوس کی ایجاد ہیں اور اس واسطے ہم اس مذہب کو عیسوی مذہب نہیں کہہ سکتے بلکہ دراصل یہ پولوسی مذہب ہے اور ہم تعجب کرتے ہیں کہ حواریوں کو چھوڑ کر اور اُن کی رائے کے برخلاف کیوں ایسے شخص کی باتوں پر اعتبار کر لیا گیا تھا جس کی ساری عمر یسوع کی مخالفت میں گذری تھی۔مذہب عیسوی میں پولوس کا ایسا ہی حال ہے جیسا کہ باوانانک صاحب کی اصل باتوں کو چھوڑ کر قوم سکھ گوروگو بند سنگھ کی باتوں کو پکڑ بیٹھی ہے۔کوئی سند ایسی مل نہیں سکتی جس کے مطابق عمل کر کے پولوس جیسے آدمی کے خطوط اناجیلِ اربعہ کے ساتھ شامل کیے جا سکتے تھے۔پولوس خواہ مخواہ معتبر بن بیٹھا تھا۔ہم اسلام کی تاریخ میں کوئی ایسا آدمی نہیں پاتے جو خواہ مخواہ صحابی بن بیٹھا ہو۔۲ ۲۸ ؍ اپریل ۱۹۰۲ء اشتہار دافع البلاء کی اشاعت کے لیے شیخ یعقوب علی صاحب کی امداد اشتہار دافع البلاء کے متعلق حضرت بہت تاکید کر رہے تھے کہ اس کو بہت جلد شائع کیا جائے۔مگر مطبع میں ہفتہ کے اندر سات آٹھ سو چھپ سکتا ہے۔اس پر شیخ یعقوب علی صاحب نے عرض کی کہ اخبار الحکم میں