ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 75 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 75

ابتلا تمحیص کے لیے آتے ہیں فرمایا۔اﷲ تعالیٰ تمحیص کرنا چاہتا ہے تاکہ جیسا دوسرے پیروں کا حال ہے ہمارے پاس بھی ہر طرح کے گندے اور ناپاک لوگ بھی شامل نہ ہو جاویں۔اس واسطے اس قسم کے ابتلا بھی درمیان میں آجاتے ہیں۔۱ ۲۶ ؍ اپریل ۱۹۰۲ء بعض فقہی سوالات کے جوابات ایک شخص نے عرض کی کہ زیور پر زکوٰۃ ہے یا نہیں؟ فرمایا کہ جو زیور استعمال میں آتا ہے اور مثلاً کوئی بیاہ شادی پر مانگ کرلے جاتا ہے تو دے دیا جاوے، وہ زکوٰۃ سے مستثنیٰ ہے۔سوال ہوا کہ جو آدمی اس سلسلہ میں داخل نہیں اُس کا جنازہ جائز ہے یا نہیں؟ فرمایا۔اگر اس سلسلہ کامخالف تھا اور ہمیں بُرا کہتا اور سمجھتا تھا تو اس کا جنازہ نہ پڑھو اور اگر خاموش تھا اور درمیانی حالت میں تھا تو اس کا جنازہ پڑھ لینا جائز ہے بشرطیکہ نمازِ جنازہ کا امام تم میں سے کوئی ہو ورنہ کوئی ضرورت نہیں۔سوال ہوا کہ اگر کسی جگہ امام نماز حضور کے حالات سے واقف نہیں تو اس کے پیچھے نماز پڑھیں یا نہ پڑھیں؟ فرمایا۔پہلے تمہارا فرض ہے کہ اُسے واقف کرو پھر اگر تصدیق کرے تو بہتر ورنہ اس کے پیچھے اپنی نماز ضائع نہ کرو اور اگر کوئی خاموش رہے نہ تصدیق کرے نہ تکذیب کرے تو وہ بھی منافق ہے۔اُس کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔فرمایا۔اگر کوئی ایسا آدمی مَر جائے جو تم میں سے نہیں اور اُس کا جنازہ پڑھنے اور پڑھانے والے غیر لوگ موجود ہوں اور وہ پسند نہ کرتے ہوں کہ تم میں سے کوئی جنازہ کا پیش امام بنے اور جھگڑے کا