ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 74 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 74

خوابوں کو جمع کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ مختلف لوگوں کو جو رؤیا ہوئے ہیں کہ قادیان میں طاعون نہیں ہو گی۔ان خوابوں کو جمع کر کے شائع کر دینا چاہیے۔اصل مقصد تقدیس رسول ہے مولوی محمد احسن صاحب ایک کتاب لکھنے کا ارادہ کرتے ہیں۔ان کو فرمایا کہ اصل میں ہمارا منشا یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تقدیس ہو اور آپ کی تعریف ہو اور ہماری تعریف اگر ہو تو رسول اﷲ کے ضمن میں ہو۔سلفِ صالحین کے متعلق مسلک فرمایا۔وفاتِ مسیح یا ایسے مسائل کے متعلق پہلے لوگ جو کچھ کہہ آئے ان کے متعلق ہم حضرت موسٰی کی طرح یہی کہتے ہیں کہعِلْمُهَا عِنْدَ رَبِّيْ (الاعراف : ۱۸۸) یعنی گذشتہ لوگوں کے حالات سے اﷲ تعالیٰ بہتر واقف ہے۔ہاں حال کے لوگوں کو ہم نے کافی طور پر سمجھا دیا ہے اور حجّت قائم کر دی ہے۔ایک الہام کی تشریح فرمایا۔خدا تو چور کا بھی دشمن ہے۔اگر میں مفتری ہوتا تو وہ مجھے اتنی مہلت کیوں دیتا۔ہاں اﷲ تعالیٰ کی عادت میں سے ہے کہ موافق مخالف ہر طرح کے لوگ دنیا میں ہوں تا کہ ایک نظارۂ قدرت ہو۔جن دنوں لڑکی پیدا ہوئی تھی اور لوگوں نے غلط فہمی پیدا کرنے کے لیے شور مچایا کہ پیشگو ئی غلط نکلی۔ان دنوں میں یہ الہام ہوا تھا ؎ دشمن کا بھی خوب وار نکلا تِس پر بھی وہ وار پار نکلا یعنی مخالفوں نے تو یہ شور مچایا ہے کہ پیشگوئی غلط نکلی مگر جلدفہیم لوگ سمجھ جائیں گے اور نا واقف شرمندہ ہوں گے۔فرمایا۔مکّہ والوں کو جب فتح کا وعدہ دیا گیا تو ان کو ۱۳ سال اس کے انتظار میں گذر گئے۔مگر آخر اللہ تعالیٰ کے وعدہ کا دن آگیا اور دشمن ہلاک ہو گئے ورنہ وہ کہا کرتے تھے مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ (السّجدۃ:۲۹)