ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 54

قائم ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ قرآن شریف نے وفاتِ مسیح کے مسئلہ پر بر خلاف اور نبیوں کی وفات کے بہت ہی بڑا زور دیا ہے۔اور تیس۳۰ سے بھی زیادہ آیتوں میں اس مضمون کو بیان کیا ہے چنانچہ يٰعِيْسٰۤى اِنِّيْ مُتَوَفِّيْكَ اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِيْ وغیرہ آیتوں میں بڑی صراحت کے ساتھ یہ ذکر موجود ہے۔یہ بیوقوف کہتے ہیں کہ وفات نہیں ہوئی بلکہ خدا نے آسمان پر اُٹھا لیا۔یہ غلطیاں ہیں جو کتاب اﷲ کے خلاف دین کی ہتک کے لیے لوگوں نے از خود پیدا کر لی ہیں۔خدا تعالیٰ نہیں چاہتا ہے کہ اس کی صفات عاجز انسان کو دی جاویں۔پھر کس شیخی پر یہ اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں۔کیا اسلام اسی کا نام ہے کہ یہ اقرار کیا جاوے کہ کچھ مخلوق خدا کی ہے اور کچھ مسیح کی۔میں سچ کہتا ہوں کہ ایسے عقائد بنا کر ان لوگوں نے اسلام کی ہتک کی ہے۔رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین کی ہے اور خدا تعالیٰ کی مخالفت کی ہے۔افسوس! کیا اسلام یہی برکت لے کر دنیا میں آیا تھا؟ اسی کا نام اتمامِ نعمت تھا؟ خالص توحید اسلام نے سکھائی اسلام وہ مصفّا اور خالص توحید لے کر آیا تھا، جس کا نمونہ اور نام و نشان بھی دوسرے ملتوں اور مذہبوں میں پایا نہیں جاتا۔یہاں تک کہ میرا ایمان ہے کہ اگر چہ پہلی کتابوں میں بھی خدا کی توحید بیان کی گئی ہے اور کُل انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی غرض اور منشا بھی توحید ہی کی اشاعت تھی۔لیکن جس اسلوب اور طرز پر خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم توحید لے کر آئے اور جس نہج پر قرآن نے توحید کے مراتب کو کھول کھول کر بیان کیا ہے کسی اور کتاب میں اس کا ہرگز پتہ نہیں ہے۔پھر جب ایسے صاف چشمہ کو انہوں نے مکدّر کرنا چاہا ہے تو بتائو اسلام کی توہین میں کیا باقی رہا۔اس پر اُن کی بد قسمتی یہ ہے کہ جب اُن کو وہ اصل اسلام جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے تھے پیش کیا جاتا ہے اور قرآن شریف کے ساتھ ثابت کر کے دکھایا جاتا ہے کہ تم غلطی پر ہو تو کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے باپ دادا اسی طرح مانتے آئے ہیں۔مگر میں کہتا ہوں کہ کیا اتنی بات کہہ کر یہ اپنے آپ کو بَری کر سکتے ہیں؟ نہیں! بلکہ قرآن شریف کے موافق اور خدا تعالیٰ کی سنّت ِقدیم کے مطابق اس قول سے بھی ایک حجّت اُن پر پوری ہوتی ہے۔جب کبھی کوئی خدا کامامور اور مرسل آیا ہے تو مخالفوں نے اس کی تعلیم کو سُن کر یہی کہا