ملفوظات (جلد 3) — Page 55
ہے مَا سَمِعْنَا بِهٰذَا فِيْۤ اٰبَآىِٕنَا الْاَوَّلِيْنَ (المؤمنون : ۲۵) مجدّدین کی ضرورت تعجب کی بات ہے کہ تجدید کا قانون یہ روز مرہ دیکھتے ہیں۔ایک ہفتہ کے بعد کپڑے بھی میلے ہو جاتے ہیں اور اُن کے دھلانے کی ضرورت پڑتی ہے لیکن کیا پوری صدی گذر جانے کے بعد بھی مجدّد کی ضرورت نہیں ہوتی؟ ہوتی ہے اور ضرور ہوتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا کہ ہر صدی کے سر پر ایک مجدّد اصلاحِ خلق کے لیے آتا ہے کیونکہ صدی کے اس درمیانی حصہ میں بہت سی غلطیاں اور بدعتیں دین میں شامل کر لی جاتی ہیں اور خدا تعالیٰ کبھی پسند نہیں فرماتا کہ اس کے پاک دین میں خرابی رہ جاوے اس لیے وہ ان کی اصلاح کی خاطر مجدّد بھیج دیتا ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین پھر تابعین پھر تبع تابعین کے زمانے کیسے مبارک زمانے تھے۔ان تین زمانوں کو رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خیرالقرون فرمایا ہے۔بعد اس کے نیکی اور خیر میں کمی آتی رہی اور غلطیاں پیدا ہونے لگیں۔یہاںتک کہ بہت ہی خطرناک غلطیاں پیدا ہوگئیں۔یہ وہ زمانہ ہے جس کا نام رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فیجِ اعوج رکھا ہے اور جس میں جھوٹ کثرت سے پھیل گیا اور جس کی بابت آپؐ نے فرمایا لَیْسُوْ امِنِّیْ وَلَسْتُ مِنْـہُمْ۔ظہور مہدی و مسیح موعود کی غرض اب اس زمانہ کے بعد خدا نے چاہا ہے کہ ان غلطیوں کو دور کرے اور اسلام کا حقیقی چہرہ پھر دنیا کو دکھائے اور شرک اور مُردہ انسان کی پرستش کو دور کرے اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بروزی طور پر ظہور ہوا اور آپؐکی عظمت کو مسیح کے مقابلہ میں ظاہر کرنے کے لیے خدا کی غیرت نے چاہا کہ احمدؐ کے غلام کو مسیح سے افضل قرار دیا۔اسی بات کے لیے سورج چاند کو رمضان میں مقررہ تاریخوں پر پیشگوئی کے موافق گرہن لگا۔یہ مولوی جب تک یہ واقع نہ ہوا تھا مہدی کی علامتوں میں بڑے زور و شور سے منبروں پر چڑھ چڑھ کر اس کو بیان کرتے تھے۔لیکن اب جبکہ خدا تعالیٰ نے اپنے وقت پر اس نشان کو ظاہر کر دیا تو میری مخالفت