ملفوظات (جلد 3) — Page 46
پس اس وقت کا اُٹھنا ہی ایک دردِ دل پیدا کر دیتا ہے جس سے دعا میں رقّت اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے اور یہی اضطراب اور اضطرار قبولیتِ دعا کاموجب ہو جاتے ہیں، لیکن اگر اٹھنے میں سُستی اور غفلت سے کام لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ درد اور سوز دل میں نہیں کیو نکہ نیند تو غم کو دور کر دیتی ہے لیکن جبکہ نیند سے بیدار ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ کوئی درد اور غم نیند سے بھی بڑھ کر ہے جو بیدار کر رہا ہے۔پھر ایک اور بات بھی ضرو ری ہے جو ہما ری جماعت کو اختیار کرنی چاہیے اور وہ یہ ہے کہ زبان کو فضول گوئیوں سے پاک رکھا جاوے زبان وجود کی ڈیوڑھی ہے اور زبان کو پاک کرنے سے گویا خدا تعالیٰ وجود کی ڈیوڑھی میں آجاتا ہے جب خدا ڈیو ڑھی میں آگیا تو پھر اندرآنا کیا تعجب ہے؟ پھر یاد رکھو کہ حقوق اللہ اور حقوقِ عبا د میں دانستہ ہرگز غفلت نہ کی جاوے۔جو اِن امور کو مدّ ِ نظر رکھ کر دعاؤں سے کام لے گا یا یوں کہو کہ جسے دعا کی تو فیق دی جاوے گی ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل کرے گا اور وہ بچ جاوے گا۔ظاہری تدا بیر صفا ئی وغیرہ کی منع نہیں ہیں بلکہ برتوکّل زانوے اشتر بہ بند پر عمل کرنا چاہیے جیسا کہ اِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ اِيَّاكَ نَسْتَعِيْنُ سے معلوم ہوتا ہے۔مگر یاد رکھو کہ اصل صفائی وہی ہے جو فر مایا ہے قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا (الشّمس:۱۰) ہر شخص اپنا فرض سمجھ لے کہ و ہ اپنی حالت میں تبدیلی کرے۔تمہیںیا د ہو گا کہ مجھے الہا م ہو ا تھا اَیَّامُ غَضَبِ اللہِ غَضِبْتُ غَضْبًا شَدِیْدًا یہ طاعو ن کے متعلق ہے مگر وہی خدا کے فضل کا امیدوار ہو سکتا ہے جو سلسلہ دعا، توبہ اور استغفار کا نہ توڑے اور عمداََ گناہ نہ کرے۔گناہ ایک زہر ہے جو انسان کو ہلا ک کر دیتی ہے اور خدا کے غضب کو بھڑکاتی ہے گناہ سے صرف خدا تعالیٰ کا خوف اور اس کی محبت ہٹاتی ہے طاعون بھی گناہوں سے بچانے کے لیے ہے۔صوفی کہتے ہیں کہ سعید کسی موقع کو ہاتھ سے نہیں دیتے۔بعض کے حالات سنے ہیں کہ انہوں نے دعا کی کہ کوئی ہیبت ناک نظارہ ہو تاکہ دل میں رقّت اور درد پیدا ہو۔اب اس سے بڑھ کر کیا ہیبت ناک نظارہ ہوگا کہ لاکھوں بچے یتیم کیے جاتے ہیں۔بیوائوں سے گھر بھر جاتے ہیں۔ہزاروں خاندان بے نام و نشان