ملفوظات (جلد 3) — Page 44
دے دینے میں دریغ نہ کیا۔آپؐکی ذاتی قوتِ قدسی کا ثبوت ہے جو مقابلہ کرنے سے مسیح میں کچھ بھی نظر نہیں آتی۔قرآن کریم اور بائبل پھر اَسرار کی طرف نگاہ کرو۔جس قدر اسرار اور رموز قرآن شریف میں ہیں تورات اور انجیل میں وہ کہاں؟ پھر قرآن شریف تمام امور کو صرف دعوے ہی کے رنگ میں بیان نہیں کر تا جیسے کہ تورات یا انجیل جو دعویٰ ہی دعویٰ کر تی ہیں بلکہ قرآن شر یف استدلالی رنگ رکھتا ہے کو ئی بات وہ بیا ن نہیں کرتا جس کے سا تھ اُس نے ایک قوی اور مستحکم دلیل نہ دی ہو۔جیسی قرآن شریف کی فصا حت وبلا غت اپنے اندر ایک جذب رکھتی ہے جس طرح پر اس کی تعلیم میں معقولیت اور کشش ہے ویسے ہی اس کے دلائل مؤثر ہیں۔غرض میرا مطلب ان ساری باتوں سے یہ ہے کہ سب سے بڑھ کرکامل اور مؤثر نمونہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی وا رث جماعت اسی طرح پر اب بھی وہی خدا ہے جس نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر احسا ن اور انعا م کیے اور اسی طرح پر اب بھی اس کے فضل اور بر کا ت کے انعام ہو رہے ہیں۔پس یاد رکھو کہ جو فریق اس حق کی مخا لفت کرتا ہے اور اسے مفتری کہتا ہے وہ جس قدر مخالفت چاہیں کریں۔مخالف الہا م سنا ئیں ان کو آخر معلوم ہو جائے گا کہ غالب وہی ہوتا ہے جس کو خدا نے اپنا نور اور فضل دے کر بھیجا ہے اور خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنّت اور عادت کے موافق اس قو م پر اپنا فضل کرے گا جس کو اُس نے منتخب کیا ہے۔وہی دنیا پر پھیلے گی اور وہی قرآن شریف، اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی وارث ہو گی۔مومنین کے تین طبقے دنیا میں ہمیشہ انسانوں کے تین طبقے ہو تے ہیں سابق بالخیرات، مقتصد اور ظالم۔سابقین کو نشانات اور معجزات کی ضرورت نہیں ہوتی وہ تو قرائن اور حالات موجود ہ سے پہچان لیتے ہیں۔مقتصدین کوکچھ حصہ روشن دماغی کاملا ہوا ہوتا ہے