ملفوظات (جلد 3) — Page 43
دعویٰ ہی بجائے خود محدود ہے۔وہ صاف کہتے ہیں کہ میںبنی اسرائیل کی بھیڑوں کے لیے آیا ہوں۔ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ الآیۃ ( اٰل عـمران : ۱۱۳) کی مصداق آپ کی دعوت کی مخاطب قوم تھی۔یہ دعویٰ تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی نمبر داری یا پتی داری کا دعویٰ کرے۔اب اُن کی ہمت، استقلا ل اور توجہ اسی دعویٰ کی نسبت سے ہونی چاہیے۔دوسری طرف ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قُلْ يٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اِنِّيْ رَسُوْلُ اللّٰهِ اِلَيْكُمْ جَمِيْعًا ( الاعراف: ۱۵۹) اب اس ہمت اور بلند نظری اور توجہ کامقابلہ کرو کیا یہی خدائی کی شان ہے کہ یہودیوں کے چار گھروں کے سوا اور کسی کی اصلاح کے لیے بھی نہیں آئے؟ خدا کے حسبِ حال توہونا چاہیے تھا کہ آپ کی دعوت کامیدان بڑا وسیع ہوتا۔خیربنی اسرائیل کی گمشدہ بھیڑوںکے لیے ہی دعوت سہی۔مگر اب یہ بھی تو دیکھنا ہے کہ اس میں کامیابی کیا ہوئی۔غور کیا جاوے اور انجیلی واقعات پر نگاہ کی جاوے تویہ راز بھی کھل جاتا ہے کہ آپ کو ہر میدان میں ذلیل ہونا پڑا۔دشمنوں پر کامیابی نہ ملی بلکہ انہوں نے پکڑ کر صلیب پر چڑھادیا اور قصہ پاک ہوا؟ اس خدا کامقابلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا ہے آپ ہر میدان میں مظفر ومنصور ہوئے۔آپ کے دشمن آپ پر کبھی قابو اور غلبہ نہ پاسکے اور آپ کے سامنے ہی ہلاک ہوئے۔آپؐکو بھیجا ایسے وقت میں گیا جبکہ زمانہ آپ کی ضرورت کو خودثابت کرتا تھا اور اُٹھائے ایسے وقت گئے جبکہ کامل اصلاح ہو چکی اور آپ اپنے فرضِ منصبی کو پوری کامیابی کے ساتھ ادا کر چکے اور اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ (المائدۃ :۴) کی آواز آپ نے سن لی۔پھر مسیح کی طرف دیکھو آپ صلیب پر چڑھے ہوئے ہیں اور ایلی ایلی لما سبقتنی کی فریاد کرتے ہیں۔یہودا اسکریوطی تیس روپیہ پر اپنے پاک اُستاد کو پکڑوا چکا ہے اور پطرس صاحب لعنت بھیج رہے ہیں مسیح کے لیے وہ نظارہ کیسا مایوسی بخش ہے۔دوسری طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ آپ کے جاں نثار رفیق کس طرح پر اپنی جانیں آپ کے قدموں پر قربان کر رہے ہیں۔ایسے وفادار اور فرمانبردار اصحاب اور رفیق کس کو ملے؟ اور یہ وفاداری اور اطاعت میں فنا کہ اپنی جانوں تک کے