ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 484 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 484

روحانی سیر کی طرف متوجہ ہوں ابو سعید صاحب عرب کو کمال شوق دلی کے جلسے کا تھا کہ وہاں کی رونق دیکھیں چنانچہ انہوں نے اجازت بھی چاہی تھی اور حضرت اقدس نے اجازت دے بھی دی تھی مگر یہ بھی ارشاد فرمایا تھا کہ دعائے استخارہ کر لو دعا سے پھر ایسے اسباب پیدا ہوئے کہ عرب صاحب دلّی جانے سے رک گئے اور آپ ابھی یہاں ہی ہیں۔حضرت اقدس نے ان کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ فرمائیے اب دلی جانے کا خیال ہے کہ نہیں؟ عرب صاحب نے جواب میں عرض کی کہ حضور اب تو بالکل جانے کو دل نہیں چاہتا۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ اب دوسری سیروں کو چھوڑ کر روحانی سیر کی طرف متوجہ ہو جاویں یہ آپ کی سعادت کی علامت ہے کہ اتنی دور سے اس جلسہ کے واسطے آئے اور یہاں ٹھہر گئے اور اس قدر مقابلہ نفس کا کیا۔ہر ایک کو یہ طاقت نہیں ہوتی کہ جذبِ نفس کے ساتھ کشتی کرے۔آپ نے جن کو وہاں جاکر دیکھنا تھا ان کی صورتیں انسانوں کی ہی ہوں گی مگر دل کا کیا پتہ کہ وہ بھی انسانوں کے ہوں گے یا نہ، لوگ باوجود اس کے کہ ابتلائوں میں مبتلا ہیں مگر تکبّر ان کے دماغ سے نہیں گیا ہم سے تمسخر وغیرہ اسی طرح ہے اور دلّی والے پنجابیوں کو تو بیل کہتے ہیں (جس کے معنے پنجابی میں ڈھگا ہے) ان کے خیالوں میں صرف دنیا کی زندگی ہے مگر جو لوگ بہروپیوں کے رنگ میں بولتے ہیں ان کو پاک عقل نہیں ملتی۔۱ ۳۱؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز چہار شنبہ (بوقتِ مغرب) حضرت اقدس تشریف لائے ماہِ رمضان کے متعلق فرمایا کہ اب یہ ختم ہوگیا ہے۔نمازِ جمعہ کے لئے تین آدمی ہونا ضروری ہیں ایک صاحب نے بذریعہ خط استفسار فرمایا تھا کہ وہ صرف اکیلے ہی اس مقام پر حضرت اقدس سے بیعت ہیں جمعہ تنہا پڑھ لیا کریں یا نہ پڑھا کریں حضرت اقدس نے فرمایا کہ