ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 482 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 482

اور ذوق آنے لگے گا جس طرح لذیذ غذائوں کے کھانے سے مزا آتا ہے اسی طرح پھر گریہ وبکا کی لذّت آئے گی اور یہ حالت جو نماز کی ہے پید اہو جائے گی اس سے پہلے جیسے کڑوی دوا کو کھاتا ہے تاکہ صحت حاصل ہو اسی طرح اس بے ذوقی نماز کو پڑھنا اور دعائیں مانگنا ضروری ہیں اس بے ذوقی کی حالت میں یہ فرض کر کے کہ اس سے لذّت اور ذوق پیدا ہو یہ دعا کرے۔نماز میں لذّت و ذوق حاصل کرنے کی دعا کہ اے اﷲ تو مجھے دیکھتا ہے کہ میں کیسا اندھا اور نابینا ہوں اور میں اس وقت بالکل مُردہ حالت میں ہوں میں جانتا ہوں کہ تھوڑی دیر کے بعد مجھے آواز آئے گی تو میں تیری طرف آجائوں گا اس وقت مجھے کوئی روک نہ سکے گا لیکن میرا دل اندھا اور ناشناسا ہے تو ایسا شعلہ نور اس پر نازل کر کہ تیرا انس اور شوق اس میں پیدا ہو جائے تو ایسا فضل کر کہ میں نابینا نہ اٹھوں اور اندھوں میں نہ جا ملوں۔جب اس قسم کی دعا مانگے گا اور اس پر دوام کرے گا تو وہ دیکھے گا کہ ایک وقت اس پر آئے گا کہ اسی بے ذوقی کی نماز میں ایک چیز آسمان سے اس پر گرے گی جو رقّت پیدا کردے گی۔خدا تعالیٰ کے آسمان میں ہونے کامفہوم عرب صاحب نے عرض کیا کہ خدا آسمان پر ہے؟ فرمایا۔اﷲ تعالیٰ ہر چیز کامالک ہے مگر لَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰى (طٰہٰ : ۹) اس نے اپنے آپ کو عُلُوّ ہی سے منسوب کیا ہے پستی کی طرف اس کو منسوب نہیں کر سکتے سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى (الانعام : ۱۰۱) عُلُوّ کو ہم مشاہدہ کرتے ہیں اور کشفی صورتوں میں آسمان سے نور نازل ہوتا ہوا دیکھا ہے گو ہم اس کی کنہ اور کیفیت بیان نہ کر سکیں مگر یہ سچی بات ہے کہ اس کو عُلُوّ ہی سے تعلق ہے بعض امور آنکھوں سے نظر آتے ہیں اور بعض نہیں۔ہر صورت میں فلسفہ کام نہیں آتا پس اصل بات یہی ہے کہ ایک وقت ایسی حالت انسان پر آتی ہے کہ وہ محسوس کرتا ہے کہ آسمان سے اس کے دل پر کچھ گرا ہے جو اسے رقیق کر دیتا ہے