ملفوظات (جلد 3) — Page 477
پھر تو ہم کو بھی ضرور لکھنا چاہیے جب انہوں نے بطور ہدیہ کے کتاب ہمیں بھیجی تو ہمیں بھی ہدیہ بھیجنا چاہیے یہ خدا کے کام ہیں۔مخالفوں کی توجہ سے بہت کام بنتا ہے میں نے آزمایا ہے کہ جہاں مخالف ٹھوکر کھاتا ہے وہاں ہی ایک بڑی حکمت کی بات ہوتی ہے۔جو بات سمجھ نہ آئے دریافت کر لینی چاہیے حسب دستور بعد ادائے نماز مغرب حضرت اقدس قبل از نماز عشاء تشریف لائے۔ایک خادم کی نسبت ایک شخص کو غلط فہمی ہوئی تھی کہ اس نے نعوذباﷲ حضرت کے کسی فعل پر اعتراض کیا ہے کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا جب اس بیچارے کو خبر ہوئی تو اس نے مولانا مولوی عبدالکریم صاحب کی خدمت میں آکر اصل واقعہ بتلایا اور عرض کی کہ راوی کو غلط فہمی ہوئی ہے ورنہ میرا ایمان ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہر ایک فعل، فعلِ الٰہی ہے جس پر اعتراض کرنا سخت درجہ کا کفر اور ضلالت ہے مولانا مولوی عبدالکریم صاحب نے اٹھ کر اصل واقعہ حضرت اقدس کی خدمت میں گذارش کیا اور خود اس خادم نے بھی عرض کی جس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ اوائل میں جماعت میں ایسی بات ہوا کرتی ہے اسی طرح جب پیغمبر خدا مدینہ میں تشریف لائے تو آپ نے کچھ زمین ایک صحابی سے خریدنی چاہی تو اس نے کہا کہ میں نے اپنے لڑکوں کے لئے رکھی ہے حالانکہ سب کچھ تو آپ کے ہاتھ پر فروخت کر چکا ہوا تھا لیکن آخر وہی اصحاب تھے کہ جنہوں نے سب دینی ضرورتوں کو مقدم رکھا اور اپنی جانوں تک کو قربان کر دیا۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ ہمیشہ خیال رکھے کہ بعض امور تو سمجھ میں آسکتے ہیں اور بعض نہیں آسکتے تو جو سمجھ میں نہ آیا کریں ان کو پسِ پُشت نہ کیا جاوے وہ دریافت کر لینے چاہئیں۔نیکی اسی کا نام ہے ورنہ حبطِ اعمال ہو جاتا ہے یہ ہمارا معاملہ اور کاروبار سب خدا کا ہے ہمارے نفس کو اس میں دخل نہیں ہم نے اس خطا کو بخشا اور معاف کیا۔۱