ملفوظات (جلد 3) — Page 476
ابتلا اس کا نفاق ظاہر کر دیتا ہے۔مومن کے لئے ضروری ہے کہ وہ دیوانہ بنے کسی ننگ وعار کی سچائی کے لئے پروا نہ کرے جب تک وہ ان قیود کا پابند ہے وہ مومن نہیں ہو سکتا۔؎ از عمل ثابت کن آں نورے کہ در ایمان تُست دل چو دادی یوسفے را راہِ کنعاں را گزیں ۱ ۲۷؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز شنبہ(بوقتِ ظہر) دربار دہلی کے موقع پر میموریل کی اشاعت اس وقت حضرت اقدس تشریف لائے تو مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے عرض کی کہ دربار دہلی پر جو میموریل روانہ کرنا ہے وہ طبع ہو کر آگیا ہے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حکم دیا کہ اسے کثرت سے تقسیم کیا جاوے کیونکہ اس سے ہماری جماعت کی عام شہرت ہوتی ہے اور ہمارے اصولوں کی واقفیت اعلیٰ حکّام کو ہوتی ہے اور ان کی اشاعت ہوتی ہے۔(بوقتِ عصر) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق ایک پادری کی تصنیف اس وقت حضرت اقدس تشریف لائے حضور کو خبر دی گئی کہ ایک پادری صاحب بنام گر سفورڈ نے ایک کتاب اپنے زُعم میں آپ کے دعاوی کی تردید میں لکھی ہے اس کا نام رکھا ہے ’’میرزا غلام احمد قادیان کامسیح اور مہدی‘‘ مگر حضور کے دعوے اور دلائل کو خوب مفصّل بیان کیا ہے اور اس کی اشاعت امریکہ میں بہت کی گئی ہے اس پر ذکر ہوتا رہا کہ اﷲ تعالیٰ نے ایک اشاعت کا ذریعہ بنایا ہے اس کی وہی مثال ہے کہ ع عدو شود سبب خیر گر خدا خواہد حضرت اقدس نے فرمایا کہ