ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 475 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 475

پنڈت صاحب۔بے شک میرا یہ کہنا کہ خدا کو مانتا ہوں اپنے آپ کو دھوکا دینا ہے۔حضرت اقدس۔پس یہی اصل بات ہے جب تک عملی شہادتیں ساتھ نہ ہوں یہ نفس کا دھوکا ہے جو کہتا ہے کہ مانتا ہوں سچا ایمان گناہ کو باقی نہیں رہنے دیتا اور سچا ایمان پیدا کیوں کر ہوتا ہے؟ آپ یاد رکھیں جو مریض طبیب کے پاس جاتا ہے تو طبیب اس کی مرض کو تشخیص کر کے ایک علاج اس کا بتا دیتا ہے اس کا فرض ہے کہ وہ بیمار کو متنبہ کر دے علاج کرنا نہ کرنا یہ مریض کا اپنا اختیار ہے وہ یہ بتادے گا کہ داغ لگانے کی جگہ ہے تو داغ دویا جونک لگائو وغیرہ یعنی جو علاج ہو وہ بتا دے گا اسی طرح پر ہم اصل علاج بتادیتے ہیں کرنا نہ کرنا ہر شخص کے اپنے اختیار میں ہے۔پس اصل بات یہ ہے کہ جیسے خدا تعالیٰ ان آنکھوں سے نظر نہیں آتا ہے اور نہ ان حواس سے ہم اس کو محسوس کر سکتے ہیں کیونکہ اگر وہ ان محسوسات میں سے ہوتا جن کے لئے یہ حواس ہیں تو بے شک وہ نظر آجاتا یا محسوس ہو سکتا مگر ان حواس میں سے کوئی حِس اس کے لئے بِکار نہیں۔اس کی شناخت کے خاص وسائل ہیں اور اور حواس ہیں گو حکیموں، برہموئوں اور فلاسفروں نے بجائے خود ٹکریں ماری ہیں لیکن وہ سب غلطیوں میں مبتلا ہیں اور وہ ایمان جو انسان کی زندگی میں ایک حیرت انگیز تبدیلی پیدا کر دیتا ہے ان کو نصیب نہیں ہوا جب خودا ن کی یہ حالت ہے تو وہ دوسروں کے لئے ہادی اور رہنما کیوں کر ہو سکتے ہیں جو خود مشکلات میں مبتلا ہیں اور جن کو خود سکینت اور اطمینان نصیب نہ ہو وہ اوروں کے لئے کیا اطمینان کاموجب ہوں گے۔اس سلسلہ کی راہ کے چراغ دراصل انبیاء علیہم السلام ہیں۔پس جو شخص چاہتا ہے کہ وہ نورِ ایمان حاصل کرے اس کا فرض ہے کہ اس راہ کی تلاش کرے اور اس پر چلے بدوں اس کے ممکن نہیں کہ وہ معرفت اور سچا گیان مل سکے جو گناہ سے بچاتا ہے اور ہر ایک شخص فیصلہ کرسکتا ہے کہ کس شَے کامتبوع اس وقت حقیقی ایمان اور گیان پیدا کر دیتا ہے۔یہ سچ ہے کہ جب انسان سچائی پر قدم مارنے لگتا ہے تو اس کو مشکلات اور ابتلا پیش آتے ہیں برادری اور قوم کا ڈر اسے دھمکاتا ہے لیکن اگر وہ فی الحقیقت سچائی سے پیار کرتا ہے اور اس کی قدر کرتا ہے تو وہ ان ابتلائوں سے نکل جاتا ہے ورنہ