ملفوظات (جلد 3) — Page 472
جاتے ہیں اور بھول جاتے ہیں کہ گناہ ہو ہی جاتے ہیں لیکن یہ اَمر انسان کی فطرت اور رگ و ریشہ میں رچا ہوا ہے کہ وہ شدّتِ خوف سے بچتا ہے جیسے میں نے کہا کہ شیر کے سامنے اگر بکری کو باندھ دیں تو گھاس نہیں کھا سکتی یا حاکم کے سامنے کوئی انسان اکڑ کر کھڑا نہیں ہو سکتا بلکہ وہ اس کے سامنے نہایت عاجزی اور احتیاط سے خاموش کھڑا ہوگا۔یہ احتیاط اور عجز، خوف اور حاکم کے رُعب اور حکومت کا نتیجہ ہے لیکن یہی نتیجہ محبت سے بھی پیدا ہوتا ہے جب ایک شخص اپنے محسن کے سامنے جاتا ہے تو وہ اس کے احسان کو یاد کرکے خود بخود نرم اور محتاط ہو جاتا ہے اور ایک حیا اس کی آنکھوں میں پیدا ہوتا ہے۔محسن کے ساتھ محبت بڑھتی ہے جیسے کوئی شخص کسی کا قرضہ ادا کردے تو وہ اس سے کس قدر محبت کرتا ہے پھر اس محبت کے تقاضے سے وہ اس کی خلاف ورزی اور خلاف مرضی کرنا نہیں چاہتا یہ فرمانبرداری اور اطاعت محبت ذاتی سے پیدا ہوتی ہے اسی طرح پر انسان کو اگر خدا تعالیٰ کے ان احسانات کا علم ہوجو اس پر اس نے کئے ہیں تو وہ اس کی محبت ذاتی کی وجہ سے گناہوں سے بچے گا اور پھر کوئی تحریک اس طرف نہیں لے جا سکتی اس کی ایسی ہی مثال ہے کہ جیسے کوئی بادشاہ کسی ماں کو حکم دیوے کہ اگر تم اس بچے کو دکھ دو گی اور دودھ نہ دو گی یہاں تک کہ اگر وہ بچہ مَر بھی جاوے تو تم کو کوئی سزا نہ ملے گی بلکہ ہم انعام دیں گے تو وہ ہرگز ہرگز اس حکم کی تعمیل نہ کرے گی اور ایسا کرنا پسند نہیں کرے گی۔اس لئے کہ اس کی فطرت میں بچہ کے ساتھ محبت کا ایک جوش ہے اور یہ جوش محبت ذاتی کا جوش ہے پس انسان جب خدا تعالیٰ کے ساتھ اس قسم کی محبت کرنے لگتا ہے تو پھر اس سے جو نیکیاں صادر ہوتی ہیں اور وہ گناہوں سے بچتا ہے تو وہ کسی طمع یا خوف سے نہیں بلکہ اسی محبت ذاتی کے تقاضے سے۔محبت ذاتی کا یہ نشان ہے کہ اگر محبت ذاتی والے کو یہ بھی معلوم ہو جاوے کہ اس کے اعمال کی پاداش میں اس کو بجائے بہشت کے دوزخ ملے گا یا اسے معلوم ہو کہ ان پر کوئی نتیجہ مرتّب نہ ہوگا اور بہشت دوزخ کوئی چیز ہی نہیں جس کے خوف یا جس کی طمع کے لئے وہ احکام کی بجا آوری کرے تب بھی اس کی محبت میں کوئی فرق نہ آئے گا کیونکہ یہ خوف اور رجا کے پہلوئوں کو دور کر کے فطرت کا رنگ پیدا کرتی ہے۔محبت ذاتی کا یہ خاصہ ہے کہ جب انسان کے اندر نشوونما پاتی ہے تو ایک آگ پیدا کر