ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 471 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 471

کی طرف میل اور توجہ نہیں ہوسکتی۔جب انسان یہ یقین رکھتا ہے کہ میں ہمیشہ اس کے ماتحت ہوں اور وہ میری بد اعمالیوں کی سزا دے سکتا ہے اور میرے اعمال کو دیکھتا ہے پھر جرأت نہیں کر سکتا جیسے ایک بھیڑ کو بھیڑیئے کے سامنے باندھ دیا جاوے تو کسی دوسرے کے کھیت کی طرف جانا درکنار اس کے سامنے کتنا ہی گھاس کھانے کے لئے ڈالا جاوے تو وہ اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گی کیونکہ ایک خوف جان اس پر غلبہ کئے ہوئے ہے۔پس جبکہ خوف ایک وحشی جانور تک اپنا اتنا اثر کر سکتا ہے کہ وہ کھانا تک چھوڑ دیتا ہے تو پھر انسان جب اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے سامنے اسی طرح سمجھے اور یقین کرے کہ وہ دیکھتا ہے اور گناہ پر سزا دیتا ہے تو اس یقین کے بعد گناہ کی طرف متوجہ نہیں ہو سکتا بلکہ وہ یقین رکھتا ہے کہ وہ صاعقہ کی طرح اس پر گرے گا اور تباہ کر دے گا۔پس یہ خوف جو خدا تعالیٰ کو بزرگ و برتر اور قدرت والا ماننے سے پیدا ہوتا ہے اس کو گناہ سے بچائے گا اور یہ سچا ایمان پیدا کرے گا۔یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ گناہ دو قسم کے ہوتے ہیں۔گناہِ کبیرہ وصغیرہ ایک گناہ کبیرہ کہلاتے ہیں جیسے چوری کرنا، زنا، ڈاکہ وغیرہ جو موٹے موٹے گناہ کہلاتےہیں۔دوسرے صغیرہ جو بلحاظ بشریت کے انسان سے سرزد ہو جاتے ہیں باوجود یکہ انسان اپنے آپ میں بڑا ہی بچتا اور محتاط رہتا ہے مگر بشریت کے تقاضے سے بعض ناسزا امور اس سے سرزد ہوجاتے ہیں۔جو دوسری قسم کے گناہ ہیں۔اسی طرح پر گناہ کے دور ہونے کے بھی دو ذریعے ہیں۔اوّل وہ ذریعہ ہے کہ بہت سے گناہ ایسے ہیں جو اﷲ تعالیٰ کے غلبہ خوف کے سبب سے دور ہو جاتے ہیں یعنی استیلاء خوفِ الٰہی بھی ایک ایسی شَے ہے جو گناہوں کو دور کرتی ہے اور ان سے بچاتی ہے۔یہ ذریعہ ایسا ہے جیسے پولیس کے خوف سے انسان قانون کی خلاف ورزی سے بچتا ہے۔پھر دوسرا ذریعہ گناہوں سے بچنے کا یہ ہے کہ اﷲ تعالیٰ کی رحمت پر اطلاع پانے کے بعد اس کی محبت بڑھتی ہے اور پھر اس محبت سے گناہ دور ہوتے ہیں۔ان دونوں ذریعوں سے بھی گناہ دور ہوتے ہیں۔ایک اور قسم کے لوگ ہیں جو چاہتے ہیں کہ گناہ ان سے سرزد نہ ہو مگر وہ کچھ ایسے غفلت میں پڑ