ملفوظات (جلد 3) — Page 470
ایک حق جُو پنڈت سے مکالمہ دو تین روز سے لاہور کے ایک معزز اور قدیمی رئیس خاندان کے ایک پنڈت صاحب دارالامان میں تشریف لائے ہوئے تھے حضرت اقدس کی زیارت اور آپ سے استفادہ ان کامنشا تھا۔۲۶؍دسمبر کی شام کو حضرت مسیح موعود ؑ سے ان کا جو مکالمہ ہوا اسے ہم ذیل میں درج کرتے ہیں۔گناہ سوز فطرت کیوں کر پیدا ہو حضرت اقدسؑ۔آپ نے کون کون سی کتاب دیکھی ہے؟ پنڈت صاحب۔مثنوی مولانا روم صاحب اپنشد اور کئی مذہبی فقراء کی کتابیں مگر انسان کا اپنے نفس پر قابو پانا مشکل ہے یہ بالضرور انسان کو گناہ کی طرف لے جاتا ہے۔حضرت اقدسؑ۔اصل بات یہ ہے کہ جس طرح طبیب کے پاس کوئی بیمار جاتا ہے تو اس وقت تک وہ اس کا علاج نہیں کرسکتا جب تک وہ یہ تشخیص نہ کرلے کہ مرض کا اصلی سبب کیا ہے؟ اور جب وہ مرض کا سبب اصلی معلوم کر لیتا ہے تو پھر وہ اس کا علاج تجویز کرتا ہے۔لیکن جب تک پورے پورے طور پر مرض کی تشخیص نہیں ہولیتی تو وہ عمدہ طور پر اس کا علاج نہیں سوچ سکتا۔ٹھیک یہی حال گناہ کا ہے کیونکہ گناہ ایک روحانی بیماری ہے جب تک اس کی ماہیت معلوم نہیں ہوتی اس وقت تک انسان گناہ سے بچ نہیں سکتا۔اس پر یہ سوال ہو سکتا ہے کہ انسان گناہ کی طرف کیوں جھکتا ہے اور یہ گناہ کا خیال پیدا ہی کیوں ہوتا ہے؟اس کا جواب یہ ہے کہ عام طور پر دیکھاجاتا ہے کہ اس وقت تک انسان گناہ کرتا ہے جب تک وہ خدا سے بے خبر رہتا ہے بھلا کیا کوئی شخص جو چوری کرتا ہے وہ اس وقت کرتا ہے جبکہ گھر کامالک جاگتا ہو اور روشنی بھی ہو یا اس وقت کرتا ہے جبکہ مالک سویا ہوا ہو اور ایسا اندھیرا ہو کہ کچھ دکھائی نہ دیتا ہو؟ صاف ظاہر ہے کہ وہ اسی وقت چوری کرتا ہے جب وہ یقین کرتا ہے کہ مالک بے خبر ہے اور روشنی نہیں ہے۔اسی طرح پر ایک شخص جو گناہ کرتا ہے وہ اس وقت کرتا ہے جبکہ خدا سے بے خبر ہو جاتا ہے اور اس کو اس پر کچھ یقین نہیں ہوتا نہ اس وقت جبکہ اسے یقین ہو کہ خدا ہے۔اور وہ اس کے اعمال کو دیکھتا ہے اور اس کو سزا دے سکتا ہے اور یہ علم ہو کہ اگر میں کوئی کام اس کی خلافِ مرضی کروں گا تو وہ اس کی سزا دے گا۔جب یہ علم اور یقین خدا کی نسبت ہو تو پھر گناہ