ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 465 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 465

ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶۵ جلد سوم جا بیٹھے تو اسے کچھ حظ نہیں آتا۔ اسی طرح ایک بد نیکوں کی محفل سے کوئی حظ حاصل نہیں کرتا۔ گویا ایک سمندر حائل درمیان میں ہے کہ نہ ادھر کا آدمی اُدھر اور اُدھر کا اِدھر آ سکتا ہے۔ ایک ہماری جماعت ہے کہ جو کہیں مان لیتی ہے اور ہر طرح تیار ہیں اور خوب سمجھے ہوئے ہیں اور ایک وہ ہیں کہ جب تک ہمیں دجال کا فروغیرہ نہ کہہ لیں اور گالیاں نہ دے لیں ان کو صبر نہیں آتا۔ کیا ان کی آنکھیں نہیں کہ کان نہیں یا دماغ نہیں ۔ سب کچھ ہے مگر كُل يَعْمَلُ عَلَى شَاكِلَتِهِ (بنی اسراءیل: ۸۵)۔ ۲۵ دسمبر ۱۹۰۲ء بروز پنجشنبه ( بوقت ظ ظهر ) اس وقت تشریف لا کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ ایک الہام رات کو الہام ہوا ہے اپنی صادِقُ صَادِقٌ وَسَيَشْهَدُ اللهُ بی یعنی میں صادق ہوں اِنِّي لِی صادق ہوں عنقریب اللہ تعالیٰ میری شہادت دیوے گا۔ خبر نہیں کہ کسی امر کے متعلق ہے۔ یہ مقدمہ جو اس وقت جہلم میں ہوا ہے یہ تو ایک چھوٹی سی اور شخصی بات ہے اصل مقدمہ ہمارا تو وہ ہے جو کروڑہا آدمیوں کے ساتھ ہے اور جو قیامت تک نفع پہنچانے والا ہے۔ حسب دستور مغرب کی نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد حضرت اقدس طعام تناول فرما کر تشریف لائے تو ڈاکٹر محمد حسین صاحب اسسٹنٹ سرجن بھیرہ سے ، بابو فخر الدین صاحب کھوکھیاٹ علاقه میانی ، بابو نبی بخش صاحب ، حافظ فضل احمد صاحب لاہور سے تشریف لائے ہوئے تھے سب نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے نیاز حاصل کی ۔ طاعون کا کچھ ذکر نو وارد احباب سے حضرت اقدس دریافت کرتے رہے۔ اللواء کے اعتراض کا صیح و بلیغ جواب مرد کے انوار کے اعراض پر ضورعلیہ الصلوة والسلام نے عربی میں جو رسالہ تحریر فرمایا ہے اس کی فصاحت پر مولوی عبد الکریم اور مولوی نور الدین صاحبان کلام کرتے رہے کہ ان شاء الله البدر جلد ا نمبر ۱۰ مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۷