ملفوظات (جلد 3) — Page 463
ملفوظات حضرت مسیح موعود ۴۶۳ جلد سوم پر تلوار اٹھا لیوے اور اس سے اسے کیا فائدہ ہوگا ؟ اگر امام مہدی نے لڑائی کے لئے آنا تھا تو اللہ تعالیٰ اپنی سنت قدیمہ کے موافق پہلے مسلمانوں کی قوم کو جنگ آزمائی سے آگاہ کر دیتا اور ان کی طبائع کا میلان جنگ کی طرف ہوتا اور ایسے اسباب ہوتے کہ مسلمان جنگ میں مشاق ہوتے مگر اہل اسلام کی موجودہ حالت سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کو جنگ سے کوئی انس نہیں اور جس قدر لوگ آج کل مہدی کے نام سے مدعی ہو کر یورپ کی اقوام سے جنگ کر چکے ہیں ان تمام نے شکستیں کھائی ہیں۔ ان تمام باتوں اور اسباب سے مفہوم ہوتا ہے کہ ارادہ الہی جنگ کا ہرگز نہیں ہے۔ یقین رکھو کہ جسمانی تلواروں کے ساتھ ان کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے گا۔ خود مسلم کی حدیث میں ہے کہ اس زمانہ میں آخر دعاؤں کے ساتھ مقابلہ ہوگا۔ جن کو نہ یہ روک سکتے ہیں اور نہ مقابلہ کر سکتے ہیں۔ اور یہی دعائیں ہوں گی کہ جن سے مخالفوں کی حالت میں روحانی تبدیلی ہو جاوے گی ۔ یا جوج ماجوج کے ذکر پر فرمایا کہ یا جوج ماجوج کے لمبے کانوں سے مراد اس کے لیے کانوں سے مراد جاسوسی کی سے مشق ہے جیسے اس زمانہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ تار خبر کا سلسلہ اور اخبار وغیرہ سب اسی میں ہیں ۔ موجودہ علامات سے عقل مند جانتا ہے کہ اگر خدا کا ارادہ جنگ کا ہوتا تو مسلمانوں کو نبرد آزمائی کے سامان میسر آتے اور ان میں قوت اور شوکت بڑھتی مگر اہلِ اسلام تو دن بدن تنزل پر ہیں اور ان کی یہ حالت ہے کہ اگر ان کو سامان جنگ کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ یورپ کی سلطنتوں سے منگواتے ہیں اور خود نہیں تیار کر سکتے ۔ ۲۴ دسمبر ۱۹۰۲ء بروز چهارشنبه عشاء کی نماز سے قبل جب آپ نے مجلس کی تو سید ابوسعید صاحب دنیا اور آخرت کی حسنات عرب نے حضرت اقدس علیہ اصلاۃ و السلام سے عرض کی کہ ل البدر جلدا نمبر ۱۰ مورخه ۲ جنوری ۱۹۰۳ء صفحہ ۷۷،۷۶