ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 456 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 456

مسیح کے بن باپ پیدا ہونے کا سِر اور بن باپ پیدا ہونے کا سِر یہ تھا کہ چونکہ سلسلہ نسب کا باپ کی طرف ہوتا ہے تو اس طرح گویا سلسلہ منقطع ہو گیا اور اسرائیلی خاندان کی ایک ٹانگ ٹوٹ گئی کیونکہ وہ پورے طور سے اسرائیل کے خاندان سے نہ رہے۔مُبَشِّرًۢا بِرَسُوْلٍ يَّاْتِيْ مِنْۢ بَعْدِي اسْمُهٗۤ اَحْمَدُ (الصّف : ۷) میں بشارت ہے۔اس کے دو ہی پہلو ہیں یعنی ایک تو آپ کا وجود ہی بشارت تھا کیونکہ بنی اسرائیل کے خاندانِ نبوت کا خاتمہ ہو گیا دوسرے زبان سے بھی بشارت دی یعنی آپ کی پیدائش میں بھی بشارت تھی اور زبانی بھی۔انجیل میں بھی مسیح نے باغ کی تمثیل میں اس اَمر کو بیان کر دیا ہے اور اپنے آپ کو مالک باغ کے بیٹے کی جگہ ٹھہرایا ہے۔بیٹے کامحاورہ انجیل اور بائبل میں عام ہے۔اسرائیل کی نسبت آیا ہے کہ اسرائیل فرزند ِمن بلکہ نخست زادہ من است۔آخر اس تمثیل میں بتایا گیا ہے کہ بیٹے کے بعد وہ مالک خود آکر باغبان کو ہلاک کردے گا اور باغ دوسروں کے سپرد کر دے گا۔یہ اشارہ تھا اس اَمر کی طرف کہ نبوت ان کے خاندان سے جاتی رہی۔پس مسیح کا بن باپ ہونا اس اَمر کا نشان تھا۔پھر سوال کیا کہ مسیح کے بن باپ پیدا ہونے پر عقلی دلائل کیا ہیں؟ فرمایا۔آدم کے بن باپ پیدا ہونے پر کیا دلیل ہے اور عقلی امتناع بن باپ پیدا ہونے میں کیا ہے۔عقل انسان کو خدا سے نہیں ملاتی بلکہ خدا سے انکار کراتی ہے۔پکا فلسفی وہ ہوتا ہے جو خدا کو نہیں مانتا۔بھلا آپ سوچ کر دیکھیں کہ اس بات میں عقل ہمیں کیا بتلاتی ہے کہ جو کچھ ہم بول رہے ہیں یہ کہاں جاتا ہے کیا کسی جگہ بند ہوتا ہے یا یونہی ہوا میں اُڑ جاتا ہے۔عقل کے جس قدر ہتھیار ہیں وہ سب نکمّے ہیں۔مگر ہم خدا تعالیٰ کے وعدوں اور نشانوں کو دیکھتے ہیں تب یقین کرتے ہیں کہ خدا ہے۔ایک فلسفی اگر بہت خوض اور تدبّر کے بعد کوئی نتیجہ نکالے گا تو صرف اس قدر کہ ایک خدا ہونا چاہیے مگر ہے اور ہونا چاہیے میں بہت بڑا فرق ہے مثلاً ہم کہیں کہ اگر دو آنکھیں ہماری آگے ہیں تو دو اور پیچھے کی طرف بھی ہونی چاہئیں تھیں کہ انسان پیچھے سے بھی دیکھتا رہتا اور اگر کوئی دشمن پیچھے سے حملہ کرنا چاہتا تو وہ اپنی حفاظت کر سکتا۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ پیچھے کی طرف آنکھیں نہیں ہیں۔اسی طرح سے ہونا چاہیے