ملفوظات (جلد 3) — Page 455
سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان پر تیاری ہوئی ہے۔۱ مسیح بمعنی سیاح مولویوں کے احادیث پیش کرنے پر فرمایا کہ ان پر ایسا وثوق تو نہیں ہوتا جیسے کلامِ الٰہی پر کیونکہ خواہ کچھ ہی ہو، پھر بھی وہ مسِّ انسان سے تو خالی نہیں۔مگر خدا تعالیٰ جس کی تنقید کرتا جاوے وہ صحیح ہوتا جاوے گا۔اگر احادیث میں نزول مسیح کا ذکر تھا تو دیکھئے قرآن شریف میں وَ قَفَّيْنَا مِنْۢ بَعْدِهٖ بِالرُّسُلِ (البقرۃ : ۸۸) موجود ہے جو کہ اصل حقیقت کو واضح کر رہا ہے۔مولویوں نے اس بات کو نہیں سمجھا اور اَور طرف دوڑتے رہے۔مسیح کے معنے بہت سیر کرنے والا۔اب ان سے کوئی پوچھے کہ جب وہ آسمان پر ہے تو اس نے سیر کہاں کی ہوگی اور لفظ مسیح کے معنے اس پر کیسے صادق آویں گے۔ایک طرف اسے آسمان پر بٹھاتے ہیں دوسری طرف سیاح کہتے ہیں تو اس کی سیاحت کا وقت کونسا ہوا۔۲ (بوقتِ مغرب) مسیح بن باپ پیدا ہوئے حضرت اقدس کے تشریف لاتے ہی ہمارےمکرم مخدوم ابو سعید عرب صاحب نے جو رنگون سے آئے ہوئے ہیںسوال کیا کہ مسیح کی ولادت کے متعلق کیا بات ہے وہ بن باپ کس طرح پیدا ہوئے؟ حضرت اقدس نے جواباً فرمایا۔اِذَا قَضٰۤى اَمْرًا فَاِنَّمَا يَقُوْلُ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ (البقرۃ : ۱۱۸) ہم اس بات پر ایمان لاتے ہیں کہ مسیح بن باپ پیدا ہوئے اور قرآن شریف سے یہی ثابت ہے۔اصل بات یہ ہے کہ حضرت مسیحؑ یہود کے واسطے ایک نشان تھے جو ان کی شامتِ اعمال سے اس رنگ میں پورا ہوا۔زبور اور دوسری کتابوں میں لکھا گیا تھا کہ اگر تم نے اپنی عادت کو نہ بگاڑا تو نبوت تم میں رہے گی۔مگر خدا تعالیٰ کے علم میں تھا کہ یہ اپنی حالت کو بدل لیں گے۔اور شرک و بدعت میں گرفتار ہو جائیں گے۔جب انہوں نے اپنی حالت کو بگاڑا تو پھر اﷲ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق یہ تنبیہی نشان ان کو دیا اور مسیح کو بن باپ پیدا کیا۔