ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 450 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 450

متعلقات اور جو کچھ لوازمات ہیں سب ہی آجاتے ہیں۔جیسے گھر بار، خویش و اقارب، اعضا و قویٰ وغیرہ۔ایک عیسائی کمیٹی کے نزدیک مسیح کے ظہور کا یہی وقت ہے مفتی محمد صادق صاحب ولایت کی ایک عیسائی کمیٹی کا ایک مضمون سناتے رہے جس میں مسیح کی دوبارہ آمد پر بہت کچھ لکھا تھا کہ وقت تو یہی ہے سب نشان پورے ہو چکے ہیں۔اگر اب بھی نہ آیا تو پھر قیامت تک نہ آوے گا۔اس مضمون کو سن کر حضرت اقدس نے فرمایا کہ اس نے بعض باتیں بالکل صاف اور سچی لکھی ہیں اور اس نے ضرورت زمانہ کو اچھی طرح محسوس کیا ہے۔بے شک اب ایک تختہ الٹنے لگا ہے اور دوسرا تختہ شروع ہو گا جس طرح یہ لوگ اس زمانہ میں مسیح کی آمد ثانی کے منتظر ہیں بلکہ اکثر ان کے انتظار کے بعد اب بے امید بھی ہو گئے ہیں اور اکثروں نے تاویلوںسے آمد ثانی کے معنے ہی اور کر لئے ہیں۔کیونکہ اس کے متعلق تمام پیشگوئیاں پوری ہو چکی ہیں اور زمانہ کی نازک حالت ایک ہادی کو چاہتی ہے۔اسی طرح اسلامی پیشگوئیوں کے مطابق بھی یہی وقت ہے۔نواب صدیق حسن خاں نے لکھا ہے کہ کُل اہلِ مکاشفات اور ملہمین کے کشوف اور الہام اور رؤیاء مسیح کے بارے میں چودھویں صدی سے آگے نہیں بڑھتے۔مولوی مسیح اور مہدی کا ذکر ہی چھوڑدیں گے ایک صاحب نے عرض کی کہ حضور اب تو مولوی لوگوں نے وہ خطبے وغیرہ پڑھنے چھوڑ دیئے ہیں جن سے مسیح کی وفات ثابت ہوتی تھی۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ اب تو وہ نام بھی نہ لیں گے اور اگر کوئی ذکر کرے تو کہیں گے کہ مسیح اور مہدی کا ذکر ہی چھوڑو۔۱ ۲۰؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز شنبہ(بوقتِ عصر) اس وقت تشریف لاکر حضرت اقدس نے بیان فرمایا کہ