ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 448 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 448

لوہے کی قلم اور تلوار ایک نے اصحاب میں سے عرض کی کہ آیت لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِيْزَانَ لِيَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِيْدَ فِيْهِ بَاْسٌ شَدِيْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ ( الـحدید : ۲۶) سے معلوم ہوتا ہے کہ حدید نے اپنا فعل بَاْسٌ شَدِيْدٌ کا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت کیا کہ اس سے سامانِ جنگ وغیرہ تیار ہو کر کام آتا تھا مگر اس کے فعل مَنَافِعُ لِلنَّاسِ کا وقت یہ مسیح اور مہدی کا زمانہ ہے کہ اس وقت تمام دنیا حدید (لوہے) سے فائدہ اٹھا رہی ہے (جیسے کہ ریل، تار، دخانی جہاز، کار خانوں اور ہر ایک قسم کے سامان لوہے سے ظاہر ہے)۔حضرت اقدس نے اس پر فرمایا کہ میں بھی سارے مضمون لوہے کے قلم ہی سے لکھتا ہوں۔مجھے بار بار قلم بنانے کی عادت نہیں ہے۔اس لئے لوہے کی قلم استعمال کرتا ہوں۔آنحضرتؐنے لوہے سے کام لیا ہم بھی لوہے ہی سے لے رہے ہیں اور وہی لوہے کی قلم تلوار کا کام دے رہی ہے۔(حضرت اقدس جس قلم سے لکھا کرتے ہیں وہ ایک خاص قسم کا ہوتا ہے جس کی نوک آگے سے داہنی طرف کو مڑی ہوئی ہوتی ہے اور اس کی شکل تلوار سی ہوتی ہے۔ایڈیٹر)۱ ۱۹؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز جمعہ(بوقتِ فجر) الہام نماز سے پیشتر حضرت اقدس ؑ نے فرمایا کہ آج یہ الہام ہوا ہے اِنِّیْ مَعَ الْاَفْوَاجِ اٰتِیْ۔اپنا نمونہ ٹھیک بناویں بعد ادائے نماز خواجہ کمال الدین صاحب نے ایک خواب سنائی جس میں دیکھا کہ زلزلہ آیا ہوا ہے۔فرمایا کہ یہی طاعون زلزلہ ہے۔میں جماعت کو کہتا ہوں کہ یہ قیامت ہے جو آرہی ہے