ملفوظات (جلد 3) — Page 444
دعویٰ نہیں کر سکتا کہ ہمارے ہاں طاعون نہیںآئی اور جہاں اب تک نہیں آئی تو آخر آنے والی ہے۔۱ ۱۷؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز چہار شنبہ(بوقتِ فجر) علوّ اور تکبّر سے مُراد اس وقت حضرت اقدس نے تشریف لا کر نماز سے پیشتر تھوڑی دیر مجلس کی اور اِنِّیْ اُحَــــافِـــــظُ کُلَّ مَـــنْ فِی الـــدَّارِ اِلَّا الَّـــذِیْــنَ عَـــلَــوْا وَاسْتَکْبَرُوْا۱ کے متعلق فرمایا کہ اس میں علوّ اور تکبّر سے یہ مُراد نہیں ہے کہ مال و وجاہت کا تکبّر ہو بلکہ ہر ایک شخص جو کہ عاجزی اور تذلّل سے خدا کے سامنے اپنے آپ کو پیش نہیں کرتا اور اس کے احکام کو نہیں مانتا وہ اس میں داخل ہے خواہ وہ غریب ہی کیوں نہ ہو۔(بوقتِ ظہر) جماعت کو نیک اور پاک تبدیلی پیدا کرنے کی نصیحت ظہر کے وقت حضرت علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لائے تو نواب صاحب سے طاعون پر کچھ ذکر ہوا جس پر حضور نے ذیل کی تقریر کی۔ہماری جماعت کو واجب ہے کہ اب تقویٰ سے کام لیوے اور اولیاء بننے کی کوشش کرے اس وقت زمینی اسباب کچھ کام نہ آوے گا اور نہ منصوبہ اور نہ حجّت بازی کام آوے گی۔دنیا سے کیا دل لگانا ہے اور اس پر کیا بھروسہ کرنا ہے یہ ہی اَمر غنیمت ہے کہ خدا سے صلح کی جاوے اور اس کا یہی وقت ہے۔ان کو یہی فائدہ اٹھانا چاہیے کہ خدا سے اسی کے ذریعہ سے صلح کر لیں۔بہت مرضیں ایسی ہوتی ہیں کہ دلالہ کا کام کرتی ہیں اور انسان کو خدا سے ملا دیتی ہیں۔خاص ہماری جماعت کو اس وقت وہ تبدیلی یک مرتبہ ہی کرنی چاہیے جو کہ اس نے دس برس میں کرنی تھی اور کوئی اور جگہ نہیں ہے جہاں ان