ملفوظات (جلد 3) — Page 435
۱۰؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز چہار شنبہ(مابین مغرب و عشاء) حالات کے مطابق دعا کے الفاظ میں تبدیلی میرناصر نواب صاحب نے حضرت اقدس سے دریافت کیا کہ یہ دعا رَبِّ کُلُّ شَیْءٍ خَادِمُکَوالی جو الہام ہوئی ہے اگر اس میں بجائے واحد متکلّم کے جمع متکلّم کا صیغہ پڑھ کر دوسروں کو بھی ساتھ ملا لیا جاوے تو حرج تو نہیں؟ حضرت اقدس نے فرمایا۔کوئی حرج نہیں ہے۔۱ ۱۱؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز پنجشنبہ(بوقتِ ظہر ) بدن تکلیف اُٹھانے کے لئے ہے بکثرت مضمون نویسی اور کاپی وغیرہ دیکھنے کے متعلق جو تکلیف انسان کو ہوتی ہے اس کو مد نظر رکھ کر ایک خادم نے اس تکلیف میں حضور کے ساتھ اظہار ہمدردی کیا۔جس پر حضرت اقدس نے فرمایا کہ بدن تو تکلیف کے واسطے ہے۔اور کس لئے ہے۔مصری اخبار اَللِّوَاء کا جواب بعد ازیں فرمایا کہ اَللِّوَا کے متعلق مضمون لکھ رہا ہوں نیچے فارسی ترجمہ بھی کر دیا ہے تا کہ اس کی اشاعت اِتْـمَامًا لِّلْحُجَّۃِ بخارا، سمر قند وغیرہ ممالک میں بھی ہو جاوے۔پھر حضور کہنے لگے کہ میں وہ مضمون لا کر بطور نمونہ سناتا ہوں چنانچہ آپ اندر گھر میں تشریف لے گئے اور مضمون لا کر اس کا عربی مسودہ اور فارسی ترجمہ سناتے رہے۔فرمایا کہ اس مضمون کو میں نے تین طرح پر تقسیم کیا ہے۔(اوّل)۔اجمال رکھا ہے۔(دوم)۔تفصیل کی ہے کہ کیوں اس اَمر کی ضرورت پڑی کہ ٹیکہ سے ہم پرہیز کریں اور وجہ بتلائی ہے کہ ہمارا دعویٰ یہ ہے