ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 434 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 434

۹؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز سہ شنبہ(بعد از نماز ظہر ) رسل بابا امرتسری کی موت آپؑکو بذریعہ خط کے علم ہوا کہ رسل بابا امرتسر میں بعارضہ طاعون فوت ہو گیا ہے اس پر آپ مولوی محمد علی صاحب کے کمرہ میں آکر گفتگو فرماتے رہے اور فرمایا کہ گذشتہ شب کو مجھے یہ الہام ہوا ہے سَلَامٌ عَلَیْکَ یَا اِبْرَاھِیْمُ پھر اس کے بعد الہام ہوا سَلَامٌ عَلٰی اَمْرِکَ صِـرْتَ فَائِزًا یعنی اے ابراہیم تجھ پر سلام تیرے کاروبار پر سلامتی ہو اور تو بامُراد ہو گیا۔اسی اثناء میں عصر کا وقت آگیا تو آپ نے مسجد میں تشریف لا کر یہ الہام پھر سنایا اور رسل بابا کی موت پر ذکر ہوتا رہا کہ تُـخْرَجُ الصُّدُوْرُ اِلَی الْقُبُوْرِ کا الہام بھی اس پر صادق آتا ہے اور الہام میں صدور کا لفظ ہے جو کہ جمع پر دلالت کرتا ہے اور جمعہ کے دن جب میں بیمار تھا تو مجھے یہ الہام ہوا تھا۔یَـمُوْتُ قَبْلَ یَوْمِیْ ھٰذَا یعنی یہ میرے اس دن سے پیشتر مَرے گا۔یوم سے مُراد جمعہ کا دن ہے جو کہ اصل میں خدا کا دن ہے۔سلسلہ کی خارقِ عادت ترقی پھر فرمایا کہ ان تین سالوں میں خوارقِ عادت ترقی ہوئی ہے۔براہین میں یہ پیشگوئی ہے کہ میں تمہارے لئے فوج تیار کروں گا وہ انہی تین سالوں میں تیار ہوئی۔(بوقتِ مغرب) دمشق کی خصوصیت دمشق کے لفظ پر فرمایا کہ اصل میں تثلیث کی جڑ دمشق ہے۔یہ راز کی بات ہے اور سمجھنے کے قابل ہے مگر ہمارے مخالف خیال نہیں کرتے۔دمشق سے مشرقی طرف اترنے کے یہی معنے ہیں کہ وہ تثلیث کا استیصال کرے گا۔شرق ہمیشہ غرب پر غالب ہوتا ہے۔۱