ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 433 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 433

کے نیچے ایک غار سی چلی جاتی ہے میں نے اس میں پائوں رکھا تو دھس گیا اور خوب یاد ہے کہ پھر میں نیچے ہی نیچے چلا گیا۔پھر ایک جست کر کے میں اوپر آگیا اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میں ہوا میں تیررہا ہوں اور ایک گڑھا ہے مثل دائرے کے گول اور اس قدر بڑا جیسے یہاں سے نواب صاحب کا گھر۔اور میں اُس پر اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر تیر رہا ہوں سید محمد احسن صاحب کنارہ پر تھے۔میں نے ان کو بلا کر کہا کہ دیکھ لیجیے کہ عیسٰیؑتو پانی پر چلتے تھے اور میں ہوا پر تیر رہا ہوں اور میرے خدا کا فضل ان سے بڑھ کر مجھ پر ہے۔حامد علی میرے ساتھ ہے اور اس گڑھے پر ہم نے کئی پھیرے کئے۔نہ ہاتھ نہ پائوں ہلانے پڑتے ہیں اور بڑی آسانی سے ادھر ادھر تیر رہے ہیں ایک بجنے میں بیس۲۰ منٹ باقی تھے کہ میں نے یہ خواب دیکھا۔(بوقتِ مغرب) بات وہ کرنی چاہیے جس سے لڑائی کا خاتمہ ہو ایک شخص امرتسری نے حضرت اقدس کو بہت فحش اور گندی گالیاں دی تھیں۔ایک باغیرت آپ کے مخلص خادم نے اس کا جواب درشتی سے دینا چاہا تھا۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ جوش کے مقابلہ پر جو ش ہو تو فساد کا باعث ہوتا ہے اور بات وہ کرنی چاہیے جس سے لڑائی کا خاتمہ ہو۔اگر ہم بدی کا جواب اس حد تک کی بدی سے دیویں تو پھر ہمارے کاروبار میں برکت نہیں رہتی۔جوش اور اشتعال کے وقت کے لکھے ہوئے مضامین میں فصاحت و بلاغت جاتی رہتی ہے۔فصاحت اور بلاغت نرمی کا بیٹا (فرزند) ہے جس قدر نرمی ہوگی اسی قدر عبارت فصیح ہوگی۔اہلِ حق کو درہم برہم نہ ہونا چاہیے۔گندی بات قابل جواب ہی نہیں ہوا کرتی۔احباب سے حضورؑ کی شفقت اصحاب کبار میں سے ایک نے ایک شَے طلب کی۔حضرت اقدس اسی وقت خود اٹھ کر اندر تشریف لے گئے