ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 432 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 432

تصرّف کرنا گناہ ہے۔انسان ایک آدمی کو بدخیال کرتا ہے اور پھر آپ اس سے بدتر ہو جاتا ہے۔کتابوں میں مَیں نے ایک قصہ پڑھا ہے کہ ایک بزرگ اہل اﷲ تھے انہوں نے ایک دفعہ عہد کیا کہ میں اپنے آپ کو کسی سے اچھا نہ سمجھوں گا ایک دفعہ ایک دریا کے کنارے پہنچے کہ ایک شخص ایک جوان عورت کے ساتھ کنارے پر بیٹھا روٹیاں کھا رہا ہے اور ایک بوتل پاس ہے اس میں سے گلاس بھر بھر کر پی رہا ہے ا ن کو دور سے دیکھ کر اس نے کہا کہ میں نے عہد تو کیا ہے کہ اپنے کو کسی سے اچھا نہ خیال کروں گا۔مگر ان دونوں سے تو میں اچھا ہی ہوں۔اتنے میں زور سے ہوا چلی اور دریا میں طوفان آیا۔ایک کشتی آرہی تھی وہ غرق ہو گئی وہ مرد جو کہ عورت کے ساتھ روٹی کھا رہا تھا اٹھا اور غوطہ لگا کر چھ آدمیوں کو نکال لایا اور ان کی جان بچ گئی پھر اس نے اس بزرگ کو مخاطب ہو کر کہا کہ تم اپنے آپ کو مجھ سے اچھا خیال کرتے ہو۔میں نے تو چھ کی جان بچائی ہے اب ایک باقی ہے اسے تم نکالو۔یہ سن کر وہ بہت حیران ہوا اور پھر اس سے پو چھا کہ تم نے یہ میرا ضمیر کیسے پڑ ھ لیا اور یہ معاملہ کیا ہے؟ تب اس جوان نے بتلایا کہ اس بوتل میں اسی دریا کا پانی ہے شراب نہیں ہے اور یہ عورت میری ماں ہے اور میں ایک ہی اس کی اولاد ہوں۔قویٰ اس کے مضبوط ہیں اس لئے جوان نظر آتی ہے۔خدا نے مجھے مامور کیا تھا کہ میں اسی طرح کروں تا کہ تجھے سبق حاصل ہو۔پھر فرمایا کہ خضر کا قصہ بھی اسی بنا پر معلوم ہوتا ہے سوءِ ظن جلدی سے کرنا اچھا نہیں ہوتا۔تصرّف فی العباد ایک نازک اَمر ہے اس نے بہت سی قوموں کو تباہ کر دیا کہ انہوں نے انبیاؤں اور ان کے اہلِ بیت پر بدظنّیاں کیں۔۱ ۸؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز دوشنبہ(بوقتِ عصر) ایک رئویا اس وقت نماز سے قبل آپ نے ایک رئویا سنائی۔میں دیکھتا ہوں کہ ایک جگہ پر وضو کرنے لگا تو معلوم ہوا کہ وہ زمین پولی ہے اور اس