ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 430 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 430

غوطہ کیوں لگایا اور پھر روح القدس کا کبوتر ابتدا ہی سے کیوں نہ نازل ہوا؟ پھر استغفار کے معانی پر حضرت اقدس اور آپ کے برگزیدہ احباب وہ آیات قرآنی تلاش کر کے سناتے رہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ استغفار کی دعا آئندہ خطائوں سے حفاظت کے لئے ہے اور پھر تلاش کرتے کرتے انجیل میں سے بھی ایسی آیات نکل آئیں جس میں مسیحؑ نے آئندہ گناہ سے بچنے کے لئے دعا مانگی ہوئی ہے۔اس کے متعلق مفصّل مضمون ریویو آف ریلیجن میں نکلنے والا ہے۔۱ ۵؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز جمعہ(بعد از نماز مغرب) ایک احمدی کا اخلاص مدراس میں ایک مخلص عہدہ دار حضرت اقدس کے غیبیہ عاشق ہیں۔ایک کذّاب نے ان کو خبر سنائی کہ قادیان میں طاعون ہے حالانکہ مرزا صاحب نے کہا تھا کہ طاعون وہاں نہ آوے گی۔ان کے ایمان نے صرف اس شنید پر یہ تقاضا کیا کہ ایک تار حضرت اقدس کی خدمت میں انہوں نے روانہ کیا جو پڑھ کر سنایا گیا۔اس میں درج تھا کہ اس خبر کے سننے سے میرے ایمان میں ترقی ہوئی ہے اور قادیان میں طاعون اس لئے آئی ہے کہ خدا تعالیٰ سچے مومنوں اور دوسرے لوگوں میں تمیز کر کے دکھلانا چاہتا ہے اور جو جو خبریں ان کو غلط پہنچی ہیں۔ہر ایک ان کی زیادت ایمان کا باعث ہوئی ہیں حضرت اقدس نے ان کے اخلاص کی تعریف کی اور فرمایا کہ ان کو اصل واقعات سے اطلاع دے کر اس شخص کا کذّاب ہونا جتلا دیا جاوے۔۲ ۷؍دسمبر ۱۹۰۲ء بروز یکشنبہ (بوقتِ ظہر ) اسمِ اعظم اس وقت تشریف لا کر حضرت اقدس نے بیان کیا کہ رات کو میری ایسی حالت تھی کہ اگر خدا کی وحی نہ ہوتی تو میرے اس خیال میں کوئی