ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 429 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 429

ہے جو کہ قرآن میں کبائر گناہ پر بولا گیا ہے اور مرزا صاحب اس کے معانی کو وسعت دے کر جب یہ لفظ نبیوں کے حق میں آوے تو اس کے اور معنے کرتے ہیں اور جب عوام النّاس پر بولا جاوے تو اور معنے کرتے ہیں اور یہ لفظ اپنے معانی پر استعمال ہوتا ہے کہ گذشتہ گناہ جو انسان کر چکا ہے اس کی معافی طلب کی جاوے۔اس سے اس نے استدلال کیا ہے کہ ضرور ہے کہ پیغمبر خدا (محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) سے گناہ سرزد ہوئے ہوں۔اس کے جواب میں حضرت اقدس نے فرمایا کہ اگر استغفار کے لیے معنے ہیں کہ گذشتہ گناہوں سے معافی ہو تو پھر بتلاویں کہ آئندہ گناہوں سے محفوظ رہنے کے لئے کون سا لفظ ہے۔گناہ سے حفاظت یعنی عصمت تو انسان کو استغفار سے ملتی ہے کہ انسان خدا سے چاہے کہ ان قویٰ کا ظہور اور بروز ہی نہ ہو۔جو معاصی کی طرف کھینچتے ہیں۔کیونکہ جیسے انسان کو اس بات کی ضرورت ہے کہ گذشتہ گناہ اس کے بخشے جاویں اسی طرح اس بات کی ضرورت بھی ہے کہ آئندہ اس کے قویٰ سے گناہ کا ظہور و بروز نہ ہو۔یہ مسئلہ بھی قابل دعا کے ہے۔ورنہ یہ کیا بات ہے کہ جب گناہ میں مبتلا ہو تو اس وقت تو دعا کرے اور آئندہ گناہوں سے محفوظ رہنے کی دعا نہ کرے۔اگر انجیل میں یہ دعا نہیں ہے تو پھر وہ کتا ب ناقص ہے۔انجیل میں لکھا ہے مانگو تو دیا جاوے گا۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے استغفار مانگا آپ کو دیا گیا۔مسیح نے نہ مانگا ان کو نہ دیا گیا۔غرضیکہ طبعی تقسیم قرآن نے کی ہے کہ گناہ سے حفاظت کے ہر ایک پہلو کو دیکھ کر استغفار کا لفظ رکھا ہے کیونکہ انسان دونو راہ کا محتاج ہے کبھی گناہ کی معافی کا، کبھی اس اَمر کا کہ وہ قویٰ ظہور وبروز نہ کریں۔ورنہ یہ کب ممکن ہے کہ قویٰ خدا کی حفاظت کے بغیر خودبخود بچے رہیں وہ کتاب کامل ہے جس نے دونوں قسم کی تعلیم بتلائی اور عقل اور ضرورت خود دونوں قسم کی دعا کا تقاضا کرتی ہے۔پھر دیکھو کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے تو کسی کے ہاتھ پر توبہ بھی نہیں کی کہ آپ کا گنہگار ہونا ثابت ہو۔حالانکہ مسیح نے تو یحییٰ کے ہاتھ پر گناہوں کی توبہ کی۔اور ان سے تو یحییٰ ہی اچھا رہا جس نے کسی کی بیعت نہ کی۔اب بتلائو کس کا گنہگار ہونا ثابت ہے۔اور اگر مسیح گناہ سے صاف تھا تو اس نے