ملفوظات (جلد 3) — Page 427
اپنے خیال میں گمان کرتا ہے کہ میں بیمار ہوں اور میری صحت ایسی ہے کہ اگر ایک وقت نہ کھائوں تو فلاں فلاں عوارض لاحق حال ہوں گے اور یہ ہوگا اور وہ ہوگا تو ایسا آدمی جو خدا کی نعمت کو خود اپنے اوپر گراں گمان کرتا ہے۔کب اِس ثواب کامستحق ہوگا۔ہاں وہ شخص جس کا دل اس بات سے خوش ہے کہ رمضان آگیا اور اس کامنتظر مَیں تھا کہ آوے اور روزہ رکھوں اور پھر وہ بوجہ بیماری کے نہیں رکھ سکا تو وہ آسمان پر روزے سے محروم نہیں ہے۔اس دنیا میں بہت لوگ بہانہ جُو ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ ہم جیسے اہل دنیا کو دھوکا دے لیتے ہیں ویسے ہی خدا کو فریب دیتے ہیں۔بہانہ جُو اپنے وجود سے آپ مسئلہ تراش کرتے ہیں اور تکلّفات شامل کر کے ان وسائل کو صحیح گردانتے ہیں۔لیکن خدا کے نزدیک وہ صحیح نہیں ہے تکلّفات کا باب بہت وسیع ہے۔اگر انسان، خدا چاہے تو اس کی رُو سے ساری عمر بیٹھ کر نماز پڑھتا رہے اور رمضان کے روزے بالکل ہی نہ رکھے مگر خدا اس کی نیت اور ارادہ کو جانتا ہے جو صدق اور اخلاص سے رکھتا ہے۔خدا جانتا ہے کہ اس کے دل میں درد ہے اور خدا اسے ثواب سے زیادہ بھی دیتا ہے کیونکہ درد دل ایک قابل قدر شَے ہے۔حیلہ جُو انسان تاویلوں پر تکیہ کرتے ہیں لیکن خدا کے نزدیک یہ تکیہ کوئی شَے نہیں۔جب میں نے چھ ماہ روزے رکھے تھے تو ایک دفعہ ایک طائفہ انبیاء کامجھے ملا(کشف میں)۔اور انہوں نے کہا تونے کیوں اپنے نفس کو اس قدر مشقّت میں ڈالا ہوا ہے، اس سے باہر نکل۔اسی طرح جب انسان اپنے آپ کو خدا کے واسطے مشقّت میں ڈالتا ہے تو وہ خود ماں باپ کی طرح رحم کرکے اسے کہتا ہے کہ تو کیوں مشقّت میں پڑا ہوا ہے۔خدا تعالیٰ کی شفقت یہ لوگ ہیں کہ تکلّف سے اپنے آپ کو مشقت سے محروم رکھتے ہیں۔اس لئے خدا ان کو دوسری مشقتوں میں ڈالتا ہے اور نکالتا نہیں اور دوسرے جو خود مشقّت میں پڑتے ہیں ان کو وہ آپ نکالتا ہے۔انسان کو واجب ہے کہ اپنے نفس پر آپ شفقت نہ کرے بلکہ ایسا بنے کہ خدا اس کے نفس پر شفقت کرے کیونکہ انسان کی شفقت اس کے نفس پر اس کے واسطے جہنم ہے اور خدا کی شفقت جنّت ہے۔ابراہیم علیہ السلام کے قصہ پر غور کرو