ملفوظات (جلد 3) — Page 423
مقام ہے جہاں سلوک کا سلسلہ ختم ہوتاہے اور اس کے سوا چارہ نہیں۔اس حالت میں کسی سہارے پر اس کے جوش نہیں ہوتے۔کیونکہ جب تک انسان کسی سہارے سے کام کرتا ہے تو ممکن ہے کہ شیطان اس میں کسی وقت دخل دیوے۔مگر یہاں ذاتی محبت کے مقام میں سہارا نہیں ہوتا جیسے ماں اور بچے کے جو تعلقات ذاتی محبت کے ہیں ان میں انسان تفرقہ نہیں ڈال سکتا۔ماں کی فطرتی محبت ایک دوسرے سے ملاتی ہے مثل مشہور ہے ’’ماں مارے اور بچہ ماں ماں پکارے‘‘اسی طرح اہل اﷲ خدا کی مار کھا کر کہاں جاسکتے ہیں۔بلکہ مار پڑے تو وہ ایک قدم اور بڑھاتے ہیں دوسرے تعلقات میں خدا کی محبت کا جلال زور کے ساتھ نزول نہیں ہوتا جیسے جب انسان کسی کو اپنا نوکر سمجھتا ہے اور خیال ہوتا ہے کہ یہ نوکری اس لئے کرتا ہے کہ اس کی اجرت ملے تو اس کی طرف محبت کامل کا التفات نہیں ہوتا اور وہ ایک نوکر شمار ہوتا ہے۔مگر جب کوئی شخص خدمت کرتا ہے اور آقا کو معلوم ہو کہ یہ نوکری کی خواہش سے نہیں کرتا تو آخرکار بیٹوں میں شمار ہوتا ہے۔خدا بڑا خزانہ ہے۔خدا بڑی دولت ہے۔استغفار کی حقیقت غفلت غیر معلوم اسباب سے ہے۔بعض وقت انسان نہیں جانتا اور ایک دفعہ ہی زنگ اور تیرگی اس کے قلب پر آجاتی ہے۔اس لئے استغفار ہے۔اس کے یہ معنے ہیں کہ وہ زنگ اور تیرگی نہ آوے۔عیسائی لوگ اپنی بیوقوفی سے اعتراض کرتے ہیں کہ اس سے سابقہ گناہوں کا ثبوت ملتا ہے۔اصل معنے اس کے یہ ہیں کہ گناہ صادر نہ ہوں ورنہ اگر استغفار سابقہ صادر شدہ گناہوں کی بخشش کے معنے رکھتا ہے تو وہ بتلاویں کہ آئندہ گناہوں کے نہ صادر ہونے کے معنوں میں کون سا لفظ ہے۔غفر اور کفر کے ایک ہی معنے ہیں۔تمام انبیاء اس کے محتاج تھے جتنا کوئی استغفار کرتا ہے اتنا ہی معصوم ہوتا ہے۔اصل معنے یہ ہیں کہ خدا نے اسے بچایا معصوم کے معنے مستغفر کے ہیں۔عیسائیت عیسویت کی ترقی پر فرمایا کہ جو ترقی انہوں نے کرنی تھی وہ کر چکے پورے طور پر انسان کو خدابنا لیا۔اگر انسان خدابن سکتا ہے تو پگٹ سے کیوں ناراض ہیں۔بہت خدا مل جاویں گے تو طاقت زیادہ ہوگی۔