ملفوظات (جلد 3) — Page 415
پیچھے آنے والے کہیں گے ان کے لئے آگے خوشخبری بھی ہے۔لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ۔محمد حسین کو فرعون کہا گیا ہے اور نذیر حسین کو ہامان۔تو ہامان کو ایمان نصیب نہ ہوا۔اسی طرح نذیر حسین بے نصیب گیا اور میرا استنباط ہے کہ جس طرح فرعون نے اٰمَنْتُ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا الَّذِيْۤ اٰمَنَتْ بِهٖ بَنُوْۤا اِسْرَآءِيْلَ (یونس : ۹۱) کہا تھا ویسے ہی یہ بھی کہے گا۔محی الدین ابن عربی نے کہا ہے کہ قرآن سے یہ ثابت نہیں کہ فرعون جہنم میں جاوے گا۔یہ ہے کہ اس نے اپنی قوم کو جہنم میں ڈالا۔شاید یہ رعایت اس کے ساتھ اس لیے ہو کہ اس نے موسٰی کو پالا، پرورش کیا، تعلیم دلوائی، تربیت کیا۔مگر ہمارے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کودوسرے کی تربیت کا ذریعہ نہیں ملا۔صرف خدا نے ہی کی۔نماز اور استغفار دل کی غفلت کا علاج ہیں سیر سے واپس ہوتے ہوئے ایک حافظ صاحب نے آپ سے مصافحہ کیا اور عرض کی کہ میںنابینا ہوں ذرا کھڑے ہو کر میری عرض سن لیں۔حضور کھڑے ہوگئے اس نے کہا میں آپ کا عاشق ہوں اور چاہتا ہوں کہ غفلت دور ہو۔حضرت اقدس نے فرمایا کہ نماز اور استغفار دل کی غفلت کے عمدہ علاج ہیں نماز میں دعا کرنی چاہیے کہ مجھ میں اور میرے گناہوں میں دوری ڈال۔صدق سے انسان دعا کرتا رہے تو یہ یقینی بات ہے کہ کسی وقت منظور ہو جاوے۔جلدی کرنی اچھی نہیں ہوتی۔زمیندار ایک کھیت بوتا ہے تو اسی وقت نہیں کاٹ لیتا۔بے صبری کرنے والا بے نصیب ہوتا ہے نیک انسان کی یہ علامت ہے کہ وہ بے صبری نہیں کرتے۔بے صبری کرنے والے بڑے بڑے بد نصیب دیکھے گئے ہیں۔اگر ایک انسان کنواں کھودے اور بیس ہاتھ کھودے اور ایک ہاتھ رہ جائے تو اس وقت بے صبری سے چھوڑ دے تو اپنی ساری محنت کو برباد کرتا ہے اور اگر صبر سے ایک ہاتھ اور بھی کھودلے تو گوہر مقصود پالیوے۔یہ خدا کی عادت ہے کہ ذوق اور شوق اور معرفت کی نعمت ہمیشہ دکھ کے بعد دیا کرتا ہے اگر ہر ایک نعمت آسانی سے مل جاوے تو اس کی قدر نہیں ہوا کرتی۔سعدی نے کیا عمدہ کہا ہے۔؎ گر نباشد بدوست راہ بُردن شرط عشق است درطلب مُردن