ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 413 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 413

کہ ہمیں ہدایت ہو جاوے طاعون ہی مانگتے ہیں دراصل یہ لوگ دہریہ ہیں خدا پر ان کو ایمان نہیں ہے خدا اس وقت اپنا چہرہ دکھانا چاہتا ہے۔اس وقت جس قدر عیاشی وفسق و فجور، حقوق العباد میں ظلم وغیرہ ہو رہے ہیں کیا اس کی کوئی حد ہے۔ہمیں بعض کہتے ہیں کہ اور دوکانداروں کی طرح ایک دوکاندار ہے مگر عنقریب خدا ان کو بتلا دے گا کہ دکان تو ہے مگر خدا کی دکان ہے ایک صریح کشش آسمان سے ہے اور صریح خدا کے ارادے معلوم ہیں کہ وہ کیا کرنا چاہتا ہے۔قادیان آنے والا ہر تحفہ اور نذر ایک نشان ہے یہ میرا ایک پرانا الہام ہے۔اَفَلَا يَتَدَبَّرُوْنَ اَمْرَكَ وَلَوْ كَانَ مِنْ عِنْدِ غَيْرِ اللّٰهِ لَوَجَدُوْا فِيْهِ اخْتِلَافًا كَثِيْرًا براہین کے وقت سے اب اسے دیکھو کہ کیسا برابر ایک سلسلہ چلا آرہا ہے میں اس اَمر پر ایک دفعہ غور کرتا رہا کہ یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ اور یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ ان دونوں الہاموں میں کیا مناسبت ہے تو معلوم ہوا کہ یَاْتُوْنَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ سے یہ خیال پیدا ہوا کہ جب اس قدر لوگ آویں گے تو ان کے کھانے وغیرہ کا انتظام بھی چاہیے تو آگے بتلایا گیا کہ یَاْتِیْکَ مِنْ کُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ یعنی وہ اپنے کھانے دانے بھی اپنے ہمراہ لاویں گے قادیان کے لوگ خوب واقف ہیں کہ اس وقت کیا حالت تھی۔کیا یہ انسان کا کام ہے کہ مدت دراز کے بعد جو بات ہونے والی تھی وہ اس قدر پیشتر بتلائی گئی۔اسی لئے جو شخص آتا ہے اور جو تحفہ اور نذر وہ لاتا ہے ہر ایک، ایک نشان ہوتا ہے اور اگر اس طرح سے ہم حساب کریں تو نشانات پچاس لاکھ تک پہنچتے ہیں۔تکالیف کے ازالہ کا طریق ایک شخص نے اپنی خانگی تکالیف کا ذکر کیا۔فرمایا کہ پورے طور پر خدا پر توکّل، یقین اور امید رکھو تو سب کچھ ہوجاوے گا اور ہمیں خطوط سے ہمیشہ یاد کراتے رہا کرو ہم دعا کریں گے۔۱