ملفوظات (جلد 3) — Page 412
عذاب کے بارہ میں عادت اﷲ موجودہ حالت میں طاعون سے ہندوئوں کے زیادہ مَرنے پر فرمایا کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے اَوَ لَمْ يَرَوْا اَنَّا نَاْتِي الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَا (الرّعد : ۴۲) ہم دور دور سے زمین کو گھٹا تے چلے آتے ہیں یہ عادت اﷲ ہے کہ اوّل عذاب ایسے لوگوں سے شروع ہوتا ہے جو دور دور ہوتے ہیں اور ضعیف اور کمزور ہوتے ہیں۔بیوقوف یہ خیال کرتے ہیں کہ یہ صرف انہیں کے لئے ہے ہمارے لئے نہیں مگر عذاب لپک کر ان تک پہنچتا ہے جن کو خبر نہیں ہوتی اور بے پروا ہوتے ہیں۔خدا کی اس میں حکمتیں ہوتی ہیں چاہتا ہے کہ یہ اور شوخی کر لیں لوگوں کو اس طاعون کی خبر نہیں ہے وہ مجھے لکھتے ہیں اور اشتہاروں میں شائع کرتے ہیں کہ یہ بھی ایک مرض ہے جس کا علاج ہو سکتا ہے۔اب ان کو لازم ہے کہ ڈاکٹروں سے علاج کرائیں۔آخر سِوَل نے لکھ دیا کہ ہم کہاں تک اس پر پردہ ڈالیں خود گورنمنٹ کو بھی اس ٹیکہ سے تکلیف پہنچی ہے۔طاعون کی اقسام فرمایا۔طاعون تین قسم کی ہے ایک خفیف جس میں صرف گلٹی نکلتی ہے اور تپ نہیں ہوتا۔دوسری اس سے تیز کہ جس میں گلٹی کے ساتھ تپ بھی ہوتا ہے۔تیسری سب سے تیزا س میں تپ نہ گلٹی آدمی سویا اور مَرگیا۔ہندوستان کے بعض دیہات میں ایسا ہی ہوا ہے کہ دس آدمی رات کو سوئے تو صبح کو مَرے ہوئے پائے۔اس کا اصل باعث طعن ہے یہ لوگ ٹھٹھہ کرتے ہیں مگر ان کو عنقریب پتہ لگ جائے گا جو مخالف بکواس کیا کرتے ہیں ان پر یک لخت پتھر نہیں پڑا کرتے۔اوّل ان کو دور سے آگ دکھلائی جاتی ہے تا کہ وہ توبہ کریں۔خدا تعالیٰ اس وقت اپنا چہرہ دکھلانا چاہتا ہے شیخ نور احمد صاحب نے عرض کی حضور اب بھی مخالف یہی کہتے ہیں کہ ہمیں طاعون کیوں نہیں ہوتی۔فرمایا کہ قرآن میں بھی یہی لکھا ہے کہ وہ لوگ خود عذاب طلب کرتے تھے کمبخت یہ تو نہیں کہتے کہ دعا کرو