ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 392 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 392

سے اثر ڈالا جاتا ہے۔پگٹ کی بھی تصویر شائع ہوئی ہے فوٹو کے بغیر آج کل جنگ ناقص ہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جس طرح ہتھیار مخالف تیار کریں تم بھی ویسے ہی تیار کرو اس سے فوٹو کا جواز ثابت ہے بندوقوں اور توپوں سے جنگ کرنے کا جواز بھی اسی طرح کیا گیا ہے ورنہ آگ سے مارنا تو حرام ہے جہاں ضرورتِ حقہ محرک اور مستدعی ہوتی ہے یا اس کے متعلق الہام ہوتا ہے اس مقام پر تصویر کی حرمت کی سند پیش کرنی حماقت ہے جبریلؑ نے خود عائشہؓ کی تصویر آنحضرتؐکو دکھائی۔مولوی محمد احسن صاحب نے کہا کہ سلیمانؑ کے وقت میں بھی ایسی ہی ضرورت پیش آئی ہو گی۔حضرت اقدسؑ نے فرمایا۔ایسا ہی معلوم ہوتا ہے۔پھر فرمایا۔ایک حُرمت حقیقی ہوتی ہے ایک غیر حقیقی۔جو غیر حقیقی ہوتی ہے وہ اسبابِ داعیہ سے اٹھ جاتی ہے۔انسان انسان میں فرق راستہ میں ایک سائل بلک بلک کر سوال کر رہا تھا فرمایا۔ایک یہ بھی انسان ہے اور ہم بھی ایک انسان ہیں۔کس طرح ہر ایک دروازہ پر گرتا اور سوال کرتا ہے۔اگر خدا کی طرف رجوع کرتا تو ایسا کبھی نہ رہتا۔ع می تواند شد مسیحا می تواند شد یہود پگٹ کا نام پگٹ کے نام کا جو سرّ ہے اس میں خنزیر کے معنے پائے جاتے ہیں۔اب دیکھیں کہ یہ عیسائیوں کا خدا آسمان پر جاتا ہے کہ زمین میں دفن ہوتا ہے دراصل خدا کو ان لوگوں پر سخت غیرت ہے جو خدائی کا دعویٰ کرتے ہیں اس کی غیرت تقاضا نہیں کرتی کہ ایسے لوگ ہوں۔اس حساب سے تو موسیٰ اور دوسرے کل نبی معاذاﷲ اس (پگٹ) کے بندے ہوئے اور یہ بھی عجیب بات ہے کہ ایک ہی سلطنت کے نیچے دو مدّعی۔ایک جھوٹا ایک سچا جیسے طاعون ہمارے مفید پڑی ہے ویسے ہی پگٹ نے گردن نکالی ہے جو کچھ اوّل مقرر ہو چکا ہے ضرور ہے کہ وہ تمام ظاہر ہو جاوے۔ڈوئی کے ذکر پر فرمایا کہ جو دولت کی مشکلات میں پھنسا ہے اسے دین میں کب راہ ملتی ہے۔