ملفوظات (جلد 3) — Page 380
پر رکھ لیتے ہیں خود تعزیراتِ ہند میں مثالیں موجود ہیں۔۱ ۱۴؍نومبر ۱۹۰۲ء بروز جمعہ اس زمانہ کاجہاد بعد ادائے نماز مغرب حضرت اقدس حسب دستور شہ نشین پر جلوہ گر ہوئے مولوی محمد علی صاحب سیالکوٹی نے رخصت طلب کی کہ میں جاکر صرف چند روز گھر رہوں گا پھر دِہ بہ دِہ پھر کر پنجابی نظم کے پیرایہ میںحضور کے سلسلہ کی تبلیغ اور اتمامِ حجّت کروں گا۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ بہت عمدہ کام ہے اوراس زمانے کایہی جہاد ہے جو لوگ پنجابی سمجھتے ہیں آپ ان کے لئے بہت مفید کام کرتے ہیں۔نجات خداکے فضل سے ہوتی ہے سید سرور شاہ صاحب نے لالہ بڈہایا کی طرف سے عرض کی کہ رات کو انہوں نے ایک سوال کیا کہ اسلام کے سواغیر مذاہب کے لوگ جو نیکی کرتے ہیں کیا ان کو نجات ہے کہ نہیں؟ حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃوالسلام نے فرمایا کہ نجات اپنی کوشش سے نہیں بلکہ خدا کے فضل سے ہوا کرتی ہے۔اس فضل کے حصول کے لئے خدا تعالیٰ نے جو اپنا قانون ٹھہرایاہوا ہے وہ کبھی باطل نہیں کرتا وہ قانون یہ ہے کہ قُلْ اِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰهَ فَاتَّبِعُوْنِيْ۠ يُحْبِبْكُمُ اللّٰهُ (اٰل عـمران : ۳۲ ) اور وَ مَنْ يَّبْتَغِ غَيْرَ الْاِسْلَامِ دِيْنًا فَلَنْ يُّقْبَلَ مِنْهُ ( اٰل عـمران : ۸۶)۔اگر اس پر دلیل پوچھو تو یہ ہے کہ نجات ایسی شَے نہیں ہے کہ اس کے برکات اور ثمرات کاپتہ انسان کو صرف مَرنے کے بعد ہی ملے بلکہ نجات تووہ اَمر ہے کہ جس کے آثار اسی دنیا میں ظاہرہوتے ہیں کہ نجات یافتہ آدمی کو ایک بہشتی زندگی اسی دنیا میں مل جاتی ہے دوسرے مذاہب کے پابند بکلّی اس سے محروم ہیں اگر کوئی کہے کہ اہلِ اسلام کی بھی یہی حالت ہے تو ہم