ملفوظات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 373 of 594

ملفوظات (جلد 3) — Page 373

چاہیے کہ اس میں سے حصہ لیوے اور دینی ضرورتوں اور دینی کاموں میں دن اور رات کو ایک کرے۔کلام کا نشان دائمی ہوتا ہے کلام کی فصاحت اور بلاغت پر فرمایاکہ دوسری قسم کے جس قدر نشانات ہوتے ہیں وہ تو غائب ہو جاتے ہیں مگر اس طرح کا نشان ہمیشہ قائم رہتا ہے بھلا اب موسٰی کے سانپ کو کوئی دکھا سکتا ہے؟ اور کلام کامعجزہ اور نشان ایسا ہوتا ہے کہ آئندہ آنے والے ہمیشہ اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور نتیجہ نکالتے ہیں کہ فلاں شخص (مردِ خدا) نے یہ کلام بطور نشان کے پیش کیا اور مخالف کچھ نظیر نہ لا سکے اور اسے کچھ جواب نہ بن آیا۔حافظ محمد یوسف کی نیش زنی مغرب کی نماز سے پیشتر جناب میر ناصر نواب صاحب نے امرتسر سے آکر بیان کیا کہ حافظ محمد یوسف صاحب ملے تھے اور ان سےباتیں ہوئیں تھیں آخر نیش زنی پر آگئے میں نے جواب دیئے حضرت اقدسؑ نے فرمایا کہ اگر ہم کاذب ہیں تو ہم ادنیٰ سے ادنیٰ جو آدمی ہے اس سے بھی بدتر ہیں۔کاذب کی حقیقت ہی کیا ہوتی ہے۔فارقلیط اور احمدؐ پھر نماز کے بعد مولوی محمد علی صاحب ایم۔اے نے بیان کیا کہ ایک شخص نے فارقلیط پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس کے معنے تو حق اور باطل کےتمیز کرنے والے کے میگزین میں کئے گئے ہیں تو پھر یہ معنی لفظ احمد پر کیسے چسپاں ہو سکتے ہیں؟ اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ فارقلیط سے مُراد احمد ہے لفظ احمد کی پیشگوئی کا ذکر کتب سابقہ میں کہاں ہے؟ خدا کے برگزیدہ نے فرمایا کہ ہمارے ذمہ ضروری نہیں ہے کہ موجودہ کتب توریت وغیرہ سے وہ لفظ نکال کر دکھلاویں جب قرآن کریم نے ان کو مبدّل و محرّف قرار دیا ہے تو ہم کہاں سے نکالیں؟ جب فارقلیط ہی محرّف ہے تو ممکن ہے کہ کوئی اور بھی لفظ ہو جس کے معنی احمدکے ہوں۔لسان العرب میں لکھا ہے کہ فارقلیط لفظ فارق اور لیط کامرکب ہے فارق بمعنی فرق کرنے والا